نفرت کے ماحول کا توڑ کرنا وقت کی اہم ضرورت،  فرقہ پرست اور کشمیر دشمن عناصر نے پنڈتوں کو سازشوں کی بھینٹ چڑھایا: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر//ریاست کے لوگوں کو متحد ہوکر بڑھتے ہوئے نفرت کے ماحول کا توڑ کرنا ہے ۔ اس کے علاوہ نفرت کی دیواروں کو منہدم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کشمیری پنڈت پنڈت برادری اس وطن کے اُسی طرح مالک ہیں جس طرح/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کشمیری مسلمان ہیں۔ ہمیں صدیوں کی بھائی چارے کی مشعل کو فیروزان رکھنے کی ازحد کوشش کرنی چاہئے۔ ان باتوں کا اظہار ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر پنڈت برادری کی اقلیتی سیل کے عہدیداران اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت پارٹی لیڈر اور اقلیتی سیل کے چیئرمین ایم کے یوگی کررہے تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پنڈتوں کو جگموہن نے کشمیر سے ایک سازش کے تحت بھاگوت تاکہ مسلمانانِ کشمیر پر خوف و دہشت کا دبائو ڈالا جائے اور یہاں کے مسلمانوں کو بدنام کیا جائے۔ جگموہن نے ہی پنڈتوں کو یہ کہہ کر شبانہ گاڑیوں میں سوار کرکے جموں روانہ کیا کہ آپ کو صرف دو ماہ کیلئے جموں میں قیام کرنا ہوگا ۔ آج 29برس گزر جانے کے بعد بھی پنڈت برادری اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ پائی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہوم لینڈ کی باتیں کررہے ہیں وہ دشمنوں کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں، پنڈتوں کو مسلمانوں کیساتھ مل جل کر رہنا ہے، اسی کا نام کشمیریت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر مسلمان اپنے پنڈت بھائیوں کے دشمن نہ تھے اور نہ آج ہیں بلکہ فرقہ پرست اور کشمیر دشمن عناصر نے پنڈت برادری کو اپنی سازشوں کی بھینٹ چڑھایا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ 1947میں جب پورے ملک میں قتل و غارت گری کا سماں تھا اور مذہب کے نام پر خون کی ندیاں بہہ رہیں تھیں کیا اُس وقت کشمیری مسلمانوں نے اپنے پنڈت بھائیوں کی رکھوالی نہیں کی؟انہوں نے کہا کہ آج ملک مکمل طور پر فرقہ پرستوں کی لپیٹ میں آج گیا ہے اور یہ فرقہ پرست نہ ہمیں چین سے بیٹھنے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیر میں مسلمانوں اور پنڈتوں کو ایک ساتھ رہنے دیں گے۔ ہمیں مل کو سازشوں کو بھانپ کر ان کا توڑ کرنے کی ضرورت ہے۔دریں اثنائ قدیم بس اڑہ بٹہ مالو کا وفد بھی ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے ملاقی ہوا۔ وفد نے ڈاکٹر صاحب کو اپنی حالت زار سے باخبر کیا اور کہا کہ اڑے منتقلی سے اڑھائی لاکھ لوگوں کا روزگار بری طرح متاثر ہوا جبکہ ساڑھے 11دکانات اور کاروباری ادارے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ وفد نے کہا کہ بس اڑے کی منتقلی صرف اور صرف سیاسی انتقام گیری کی بنیاد پر کیا گیا۔ وفد نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا اور اُن کے مشکلات کا ازالہ کرنے کی بھی مانگ کی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں