ٹرانسپورٹروں کی ریاست گیر ہڑتال سے لوگ مشکلات میں مبتلا، سرینگر میں ٹرانسپورٹروں کا دھرنا مطالبات کے حق میں جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

سرینگر/سی این آئی / اے پی آئی /ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال کے نتیجے میں کل وادی بھر میں پسنجر گاڑیاں ،آٹو رکھشا ،ٹیمپو،سومو گاڑیاں ،تویرا اور دوسری قسم کی گاڑیاں سڑکوں سے غایب رہیں جس سے روز مرہ کی زندگی متاثر ہوکر رہ گئی ۔/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
پسنجر گاڑیوں کی ہڑتال کے نتیجے میں لوگوں کو مشکلات پیش آئیں ۔اگرچہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے کئی روٹوں پر اپنی بس سروس بھی شروع کی تھی لیکن لوگوں کے رش کے پیش نظر وہ ناکافی ثابت ہوگئیں ادھر ٹرانسپورٹ ویلفئیر ایسوسی ایشن کے ترجمان مختا ر احمد کوچھے نے آفتا ب کو بتایا کہ ایسوسی ایشن نے حکومت کو مطالبات حل کرنے کے لئے پانچ دن کا وقت دیا ہے اگر پانچ دنوں کے اندر اندر مطالبات تسلیم نہیں کئے جائینگے تو اس کے بعد باضابطہ ایجی ٹیشن شروع کی جاے گی ۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال سے لوگوں کو جو مشکلات پیش آئیں اس کے لئے انہوں نے معذرت طلب کرلی ۔تفصیلات کے مطابقسرینگر جموں شاہراہ پر کیگام اونتی پورہ کے نزدیک مسافر و مال بردار گاڑیوں پربھاری ٹیکس عائد کرنے کے خلاف ٹرانسپورٹروں کی ریاست گیر ہڑتال کے باعث ٹنل کے آر پار ٹرانسپورٹروں کے پہہ جام ہڑتال کے باعث معمول کی زندگی بری طرح متاثر رہی ۔ اسی دوران سرینگر میں ٹرانسپورٹروں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شاہراہ پر ٹول ٹیکس ختم کیا جائے ۔ سرینگر جموں شاہراہ پر مسافروں گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف وادی کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی 12جون کو ٹرانسپورٹر وںنے مکمل ہڑتال کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ٹرانسپورٹروں کی ہڑتالی کال پر وادی کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی بدھ کو پہہ جام ہڑتال کے باعث تمام قسم کا ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔ رانسپورٹروں کی ہڑتال کے باعث وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی مسافروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور گاڑیاں نہ ملنے کے باعث اکثر و بیشتر مقامات پر مسافروں کو پیدل چلتے ہوئے دیکھا گیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جموں میں کچھ کمر شل گاڑیاں سڑکوں پر چلتے ہوئے دیکھی گئی جس کے بعد مشتعل ہجوم نے ان پر سنگبازی کرکے ان کے شیشے چکنا چور کئے ۔ وادی کشمیر میں ٹرانسپورٹروں کی ہڑتالی کال کا خاصہ اثر دیکھنے کو ملا جس کے باعث سڑکوں پر تمام قسم کا مسافر و مال بردار رانسپورٹ غائب رہا جبکہ آٹو رکھشا بھی کسی جگہ دیکھنے کو نہیں ملا ۔ ادھر سرینگر میں ٹرانسپورٹروں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ٹول ٹیکس کو جلد از جلد ختم کیا جائے ۔  ٹرانسپورٹروں کے مطابق سرکار نے مسافر گاڑیوں میں ہائی ٹیک لوکیشن ٹریکنگ سسٹم نصب کرنے کا فرمان جاری کیا ہے جو خستہ حال ٹرانسپورٹ صنعت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتی ہے ۔ ٹرانسپورٹروں کے مطابق ہائی ٹیک آلات قریب 20,000روپے کا ہے اور اس وقت ٹرانسپورٹر اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ یہ مہنگا ڈیوائس گاڑیوں میں نصب کرسکیں ۔ اسلئے وادی کشمیر میں 12جون کو مکمل چکہ جام کیاگیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں