حدبندی میں تبدیلیاں محض افواہ گورنرستیہ پال ملک، کشمیر میں سیاح سب سے زیادہ محفوظ، جموں کشمیر بینک میں جاری بے ضابطگیوں کو دور کرنے کےلئے 3مہینے کا وقت درکار ہے
کشمیری جنگجو بندوقیں چھوڑ کر بات چیت کی میز پر آئیں، ہندوستان کو تشدد سے جھکایا نہیں جاسکتا

قومی میڈیا کشمیر مخالف پروپگنڈہ پھیلا نے میں مصروف

سرینگر/ کے این ایس /ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے قومی میڈیا پر بیرون ریاست کشمیر مخالف پروپگنڈہ چلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرمیں ایک شخص کے ہلاک ہونے پر قومی میڈیا کی چینلوں پر دو دو ہفتوں تک خبریں نشر کی جاتی ہیں۔ انہوں نے موجودہ سیاسی منظر نامے پر ریاست میں جاری حدبندی معاملے کو افواہ بازی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اضلاع سے متعلق نئی حد بندی ایک آئینی معاملہ ہے۔ گورنر نے پاکستان پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج خود تکلیف میں ہے، وہ اب تھک چکا ہے۔ پاکستان کو اب یہ بات محسوس ہونے لگی ہے کہ وہ ہندوستان کو توڑ نہیں سکتا لیکن پھر بھی وہ یہاں افرا تفری کو ہوا دینے کےلئے چھوٹی چھوٹی کارروائیاں انجام دے رہا ہے۔  ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
بدھوار کو شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشنل سنٹر واقع بلوارڈ روڑ پر چیف سیکرٹری ، جملہ مشیروں اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے قومی میڈیا پر بیرون ریاست کشمیر مخالف پروپگنڈہ چلانے کا الزام عائد کیا۔ گورنر نے بتایا کہ قومی میڈیا بیرون ریاست کشمیر کی شبیہ کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی میڈیا کی چینلیں بیرون ریاست کشمیر کو منفی انداز میں پیش کررہی ہے جو کہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔ گورنر کے بقول اگر کشمیر میں ایک آدمی مر جاتا ہے تو قومی میڈیا پر اس سے متعلق دو دو ہفتوں تک خبر نشر کی جاتی ہے اور یوں کشمیر کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی ہے تاہم میرے ضلع میں ہر روز 5افراد ہلاک ہوجاتے ہیں لیکن ان کی کسی بھی بھنک تک نہیں لگتی۔ ان سے متعلق کوئی بھی خبر شائع نہیں کی جاتی۔ گورنرکے مطابق کشمیر میں کسی بھی سیاح پر پتھر نہیں پھینکا جاتا لیکن میرے ضلع مظفر نگر سہارانپور کی ہائے وے پر سیاحوں کو روزانہ لوٹا جاتا ہے مگر وہاں کا ذکر قومی میڈیا میں نہیں کیا جاتا۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی صورتحال کو بیرون ریاست منفی انداز میں پیش کرنے کا خالص مقصد کشمیر کو بدنام کرنا ہے۔ گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ موجودہ سیاسی منظرنامے پر ریاست میں جاری حد بندی سے متعلق بوال نیا شوشہ کھڑا کیا جارہا ہے جو کہ سراسر افواہ بازی پر مبنی ہے۔ انہوں نے حد بندی سے متعلق جاری تنازعے کو محض افواہ بازی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ابھی تک مرکزی وزیر داخلہ نے بھی کوئی تصدیق نہیں کی ہے اور تاایں دم یہ صرف افواہ بازی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔جموں وکشمیر بنک سے متعلق جاری تنازعے پر گورنر نے بتایا کہ بنک نے گالف کورس کی تزین کاری پر 50کروڑ روپے صرف کئے ہیں جہاں پر ایک ہزار امیر ترین لوگ اس کا فائدہ اُٹھارہے ہیں۔ میٹنگ میں موجود ریاست کے چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم نے گورنر کے جواب کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جموں وکشمیر بنک نے گالف کورس کی تزین کاری پر 50کروڑ روپے خرچ کئے ہیں جہاں پر ایک ہزار امیر افراد اس سے مستفید ہورہے ہیں۔چیف سیکرٹری کے مطابق جموں وکشمیر بنک ریاستی معیشت کا ایک اہم ستون ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر بنک سے متعلق سینکڑوں شکایات موصول ہوچکی تھی یہاں تک کہ آر بی آئی نے بھی اس حوالے سے گورنر ستیہ پال ملک کو مکتوب میں سرزنش کی۔ انہوں نے بتایا کہ بنک میں جاری بے ضابطگیوں کو رفع کرنے میں تین مہینوں کا وقت درکار ہے۔ چیف سیکرٹری کے مطابق تین مہینوں کے اندر اندر بنک میں پائی جارہی بدانتظامی اور بے ضاضابطگیوںکو رفع کیا جائےگا۔جموں وکشمیر بنک دوبارہ اپنی شان رفتہ کو بحال کرنے میں کامیاب ہوگا اوریقینا منظر نامے پر چھاجائےگا۔ریاستی سرکار بنک کو عالمی سطح کا معیاری ادارہ بنانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرےگا۔چیف سیکرٹری نے گورنر کے جواب کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا بنک کوئی خیراتی ادارہ نہیں بلکہ ایک مالیاتی ادارہ ہے جو ریاستی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنک کےلئے ایم ڈی اور چیرمین کے عہدے علیحدہ علیحدہ رہیں گے۔ ادھر اگلے ماہ سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ امسال سالانہ امرناتھ یاترا پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگی۔ریاستی سرکاریاتریوںکے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر سیکورٹی کے کڑے بندوبست عمل میں لائے گی۔گورنرنے مزید بتایا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ریاستی عوام نے لوک سبھا انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرکے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو آگے لایا۔ میں اس بات کےلئے مطمئن ہوں اور مجھے ریاستی عوام پر فخر ہے کہ انہوں نے لوک سبھا انتخابات کے دوران مہذیب ہونے کا بھر پور ثبوت دیا اور اپنے پسندیدہ نمائندوں کا انتخاب ممکن بنانے کےلئے پولنگ مراکز کا رخ کیا۔تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی مین اسٹریم جماعتیں لوگوں کو لوک سبھا انتخابات میں شامل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔یہاں کی مین اسٹریم پارٹیاں لوگوں کو پولنگ مراکز تک لے جانے میں بری طرح سے ناکام ہوگئیں۔ میں اُن سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ انتخابات کے دوران پولنگ کی شرح کیا رہی؟ مین اسٹریم سیاسی جماعتیں لوگوں کو مائل کرنے میں ناکام و نامراد ہوگئیں۔گورنر کے بقول میں نے مقامی سیاسی پارٹیوں کو پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے کےلئے کافی کوششیں کیں تاہم وہ اس کےلئے تیار نہیں ہوئے لیکن پھر بھی ہم نے جمہوری اداروں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کےلئے زمینی سطح پر لوگوں کو خودمختار بنانے کےلئے انتخابات کرائے۔اس موقعے پر گورنر ستیہ پال ملک جو کہ یونیفائڈ ہیڈکوارٹرز کی صدارت بھی کررہے ہیں، نے وادی کشمیرمیں امن و قانون کی صورتحال اوریہاں جاری عسکریت پر بھی بات کی۔ گورنر نے پاکستان پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج خود تکلیف میں ہے، وہ اب تھک چکا ہے۔ پاکستان کو اب یہ بات محسوس ہونے لگی ہے کہ وہ ہندوستان کو توڑ نہیں سکتا لیکن پھر بھی وہ یہاں افرا تفری کو ہوا دینے کےلئے چھوٹی چھوٹی کارروائیاں انجام دے رہا ہے۔گورنر کے مطابق سرحد کے دوسری طرف اس وقت بھی جنگجوئوں کے تربیتی مراکز قائم ہے جہاں نوجوانوں کی ذہنوں میں زہربھر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر آج بھی دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہے تاہم ہماری فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں سرھدپار سے داخل ہورہے جنگجوئوں کو آئے روز ختم کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں جنگجوئوں کی صفوں میں بھرتیوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔گورنرنے جنگجوئوں نوجوانوں کو صلاح دیتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دائرے میں شامل ہوجائیں۔انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے انتہا پسندانہ رویے کے آگے مرکزی و ریاستی حکومت کبھی بھی نہیں جھکے گی بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تشدد کا راستہ اختیار کرچکے نوجوان بندوق کو خیر باد کرتے ہوئے بات چیت کا حصہ بن جائیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں