ہندوستانی ٹیم پاکستان کے مقابلے کہیں بہتر:کپِل دیو

نئی دہلی/ انگلینڈ میں جاری آئی سی سی  انٹرنیشنل کرکٹ کونسل  عالمی کپ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان زبردست مقابلے کا وقت تیزی سے قریب آتا جا رہا ہے اور عالمی کپ کے فاتح ہندوستان کے سابق کپتان کپِل دیو کے مطابق ہندوستانی ٹیم پاکستان کے مقابلے کہیں بہتر ہے ۔ کپِل نے یہاں بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں ڈیلی فینٹسی اسپورٹس پلیٹ فارم 11 کا افتتاح کرتے ہوئے کہا،‘ہندوستانی ٹیم پاکستان کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے جبکہ ہمارے وقت میں پاکستان کا پلہ کچھ بھاری ہوا کرتا تھا۔ ایسا اس لیے ہوا ہے کیونکہ گذشتہ دس سالوں میں ہندوستان نے اپنی بلے بازی، گیندبازی، فیلڈنگ اور تمام میدانوں میں خاص محنت کی ہے اور بہتری پیدا کی ہے ’۔ ہندوستان اور پاکستان کا عالمی کپ میں مقابلہ اتوار کو ہوگا۔ہندوستان کا عالمی کپ میں پاکستان کے خلاف صد فیصدریکارڈ رہا ہے ۔ حالانکہ ہندوستان کو 2017 میں انگلینڈ میں آئی سی سی چیمپیئنس ٹرافی کے فائنل میں پاکستان سے ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ ہندوستان نے لیگ میچ میں پاکستان کو شکست دی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ کرکٹ تعلقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور دونوں ٹیمیں آئی سی سی ٹورنامنٹ میں ہی آمنے سامنے ہو پاتی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اس مقابلے کا ہر کسی کو بے صبری سے انتظار ہے ۔ واضح رہے کہ اس مقابلے کے تمام ٹکٹ پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔ سابق کپتان اور ہر فن مولا کھلاڑی کپِل نے عالمی کپ میں ہندوستانی ٹیم کے مظاہرے کو شاندار قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیم خطاب جیتنے کی سب سے مضبوط دعویدار ہے ۔ کپِل نے کہا کہ ٹیم میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے ۔ لیکن اوپنر شیکھر دھون کا زخمی ہونا ٹیم کے لیے بدقسمتی ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ کھیل ہے اور اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ شیکھرکی جگہ کون لے گا اس پر کپِل نے بس اتنا ہی کہا کہ یہ کام ٹیم مینیجمنٹ، کوچ اور کپتان کا ہے اور انھیں ان کا کام کرنے دیں۔ کپِل نے ہندوستانی ٹیم کی ایک یونٹ کے طور پر کھیلنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ہندوستانی ٹیم کے اتحاد نے متاثر کیا ہے اور ایک یونٹ کے طور پر ٹیم انڈیا کا دم خم نکھر رہا ہے ۔ آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہاردک ایسا کھلاڑی ہے جو اپنے دم پر ٹیم کو پار لگا سکتا ہے ۔ وہ ایک اچھا ہرفن مولا کھلاڑی ہے اور بلے بازی میں الگ مقام رکھتا ہے ۔ کپِل نے کہا کہ ان کے وقت میں بہت کم خواتین میچ دیکھا کرتی تھیں جبکہ آج اسٹیڈیم میں خواتین کی تعداد کافی رہتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں