مرہامہ بیج بہاڑہ میں خونین معرکہ آرائی، 2جنگجو اور ایک فوجی ہلاک، جاں بحق ہونے والے جنگجوئوں میں لیتہ پورہ خودکش حملے میں استعمال شدہ گاڑی کا مالک بھی شامل علاقے میں پرُ تشدد مظاہرے ، جنازہ میں لوگوں کی شرکت

اننت ناگ /نیازحسین/ شاہ جنید/ کے این ایس /اے پی آئی /بڈورہ جھڑپ کے 24گھنٹوں بعد ہی فوج و فورسز نے واگہامہ مرہامہ میں جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لاکر یہاں گھر گھر تلاشی/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کا آغاز کیا جس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوئوں نے فورسز پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں لیت پورہ خود کش حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کا مالک جو جیش محمد نامی جنگجو تنظیم کے ساتھ وابستہ تھا، ساتھی سمیت جاں بحق ہوا جبکہ جنگجوئوں کی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 2دیگر گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔ اس دوران فورسز نے جائے جھڑپ سے مارے گئے جنگجوئوں کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کے ساتھ ساتھ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا۔ انتظامیہ نے ضلع بھر میں امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ادھر جھڑپ میںمارے گئے جنگجووئں کی لاشوں کو طبی و قانونی لوازمات کے بعدہی لواحقین کے حوالے کیا جس کے بعد انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا۔ بڈورہ اننت ناگ جھڑپ کے 24گھنٹوں کے بعد ہی واگہامہ مرہامہ علاقے میں فوج اور جنگجوئوں کے بیچ خونریز معرکہ آرائی ہوئی جس کے نتیجے میں جیش محمد کے 2جنگجوئوں سمیت ایک فوجی اہلکار از جان ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق فوج کی 3آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد بجبہاڑہ اننت ناگ کے واگہامہ علاقے کو منگلوار کی علی الصبح محاصرے میں لے لیا جس کے بعد فورسز کی تلاشی پارٹی نے یہاں گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز کواطلاع ملی تھی کہ گائوں میں 2سے 3جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جو فورسز کو کافی عرصے سے مطلوب تھے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے واگہامہ مرہامہ علاقے کوآنے اور جانے والے تمام راستوں کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ منگلوار کی صبح فورسز کے چاک و چوبند دستوں نے واگہامہ مرہامہ بستی کا محاصرہ کرنے کے بعد یہاں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے اس دوران رہائشی مکانات کی باریک بینی سے تلاشی لینے کےساتھ ساتھ یہاں موجود افراد خانہ سے پوچھ تاچھ کی۔ ادھر پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ فورسز اہلکاروں نے جونہی بستی کے اندر داخل ہوکر یہاں تلاشی کارروائی شروع کی تو اسی اثنا میں یہاں چھپے بیٹھے جنگجوئوں نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی جس کا فورسز پارٹی نے بھی بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بستی میں طرفین کے درمیان گولیوں کی گن گرج شروع ہونے کے ساتھ ہی یہاں فورسز کی بھاری کمک کو طلب کیا گیا تاکہ فرار کے تمام ممکنہ راستوںپر کڑے پہرے بٹھائے جائیں۔ معلوم ہوا کہ فورسز نے گائوں میں جگہ جگہ موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی بڑے حادثے کو ٹالنے کی خاطر جائے جھڑپ کی جانب جانے والے راستوں پر خار دار تاریں نصب کیں۔ اس دوران فورسز اہلکاروں نے یہاں جنگجوئوں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی جس کے بعد یہاں تلاشی کارروائی عمل میں لانے کے بعد 2جنگجوئوں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق جائے جھڑپ پر 2جنگجوئوں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جنگجوئوں کا تعلق جیش محمد نامی تنظیم سے ہے جن کی تحویل سے قابل اعتراض مواد اور اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا۔ پولیس ترجمان کے بقول طرفین کی فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک اہلکار انیل جسوال بھی ہلاک ہوا جبکہ مزید 2فوجی اہلکا ر گولیاں لگنے کے نتیجے میں فوجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہوئے اہلکاروں کو سرینگر کے بادامی باغ فوجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم یہاں انیل جسوال نامی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں دیگر زخمی اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ پولیس ترجمان نے جھڑپ میں مارئے گئے جنگجوئوں میں سے ایک کی شناخت سجاد احمد بٹ عرف افضل گورو ولد محمد مقبول بٹ ساکن مرہامہ سنگم اننت ناگ اور توصیف احمد بٹ ساکن مرہامہ بجبہاڑہ کے بطور کی ہے ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سجاد احمد نامی جنگجو کا تعلق جیش محمدسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14فروری 2019کو لیت پورہ اونتی پورہ میں سی آر پی ایف کانوائے پر جنگجوئوں کی طرف سے فدائین حملے میں جو گاڑی استعمال کی گئی اُس کا مالک سجاد احمد ہی تھا جنہوں نے حملے سے قبل چند روز ہی جیش محمد کے فدائین اسکوارڑ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔پولیس نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ لیت پورہ حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کا مالک سجاد احمد اپنے ساتھی سمیت واگہامہ جھڑپ میں مارا گیا۔انہوں نے بتایا جھڑپ میں مارے گئے دوسرے جنگجو کو سجاد احمد ساکن مرہامہ نے ہی شامل کروایا تھا۔پولیس کے بقول مارے گئے جنگجو پولیس کو کافی عرصے سے مطلوب تھے جو پولیس، سی آر پی ایف، سیکورٹی تنصیبات اور عام شہریوں پر حملوں اور زیادتیوں میں ملوث تھے۔انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں مارا گیا جنگجو سجاد احمد پولیس کو لیت پورہ حملے میں مطلوب تھا جس میں سی آر پی ایف کے 40اہلکار موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ لیت پورہ حملے کی تحقیقات کے دوران کاس بات کا خلاصہ ہوا کہ حملے میں جو ماروتی ایکو گاڑی بارود سے بھری استعمال کی گئی تھی ، کا مالک سجاد احمد ساکن مرہامہ تھا۔ تحقیقات کے دوران جونہی سجاد کا نام سامنے آگیا اور اس کی اطلاع میڈیا میں شائع کی گئی تو سجادعین اُسی وقت انڈر گرائونڈ ہوگیا اور اس طرح انہوں نے جیش محمد نامی جنگجو تنظیم میں شمولیٹ اختیار کرلی۔پولیس کے بقول سجاد کی اے کے 47رائفل سمیت تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس پر یہ تحریر درج تھی کہ انہوں نے جیش میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔انہوںنے بتایا کہ جھڑپ میں مار اگیا دوسرا جنگجو توصیف احمد ساکن مرہامہ نے سجاد کو جنگجوئوں کی صف میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔دونوں جنگجو اُس گروپ سے منسلک تھے جو پولیس، سی آر پی ایف، آرمی، سیکورٹی تنصیبات اور عام شہریوں پر حملوں میں زیادتوں میں ملوث تھے۔ مارے گئے دونوں جنگجوئوں کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں جن میںایف آئی آر نمبر 16/2018 اور 28/2019 شامل ہیں جو لیت پورہ حملے سے متعلق ہیں۔ ادھرفورسز کی جانب سے محاصرہ عمل میں لائے جانے کے بعد انتظامیہ نے ضلع بھر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کو منقطع کردیا ہے۔ معلوم ہوا کہ منگلوار کی صبح ضلع کے حدود میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا۔ ادھر جاں بحق جنگجوئوں کی یاد میں ضلع کے مختلف علاقوں میں مکمل ہڑتال سے معمولات کی زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی جس دوران یہاں تجارتی، کاروباری، نجی اور غیر سرکاری سرگرمیاں مانند پڑگئیں۔عینی شاہدین کے بقول ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں کو پولیس نے طبی و قانونی لوازمات کی ادائیگی کے بعد ہی لواحقین کے حوالے کردیا جس کے بعد انہیں آبادئی علاقوں میں پہنچاکر یہاں لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں سپرد لحد کیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ واگہامہ جھڑپ میں جارے گئے دونوں جنگجوئوں کو جوہی آبائی علاقوں کو پہنچایا گیا تو یہاں مرد و خواتین کےساتھ ساتھ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کےخلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس موقعے پرلوگوں کا بھاری رش دیکھتے ہوئے جاں بحق جنگجوئوں کا کئی مرتبہ جنازہ پڑھایا گیا جس کے بعد انہیں اسلام و آزادی کے فلک شگاف نعروں کے بیچ سپرد لحد کیا گیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں