بہار میں دماغی بخار سے 100سے زیادہ بچے ہلاک

پٹنہ/ 18جون/ بہار میں اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم âاے ای ایسá یعنی شدید دماغی بخار سے سو سے زیادہ بچوں کی اموات ہوچکی ہیں۔ ریاست کے دو بڑے ہسپتالوں میں ابھی بھی دو سو سے زیادہ مریض زیر علاج ہیں ان میں بہت سے بچے ایسے ہیں جن کی عمر دس برس سے کم ہے۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر اموات ’ہائپوگلیسیمیا‘ یعنی خون میں شوگر کی مقدار بے حد کم ہونے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ دماغی بخار کا پہلا معاملہ انیس سو ستر میں سامنے آیا تھا اور تب سے بہار اور اترپریش میں اس بخار سے ہزاروں بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ مریضوں کے علاج کا سارا خرچ خود اٹھائی گی۔ وہیں وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ متاثرین کے علاج اور ان کے خاندان کی مدد کے لیے اپنا پورا تعاون فراہم کرے گی۔ جون کے مہینے میں شروع ہونے والی اس بیماری سے سب سے زیادہ ہلاکتیں بہار کے مظفرپور علاقے میں ہوئی ہیں۔ یہ بیماری اکثر مون سون کے موسم میں پھیلتی ہے اور اس سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔ دو ہزار پانچ تک ڈاکٹروں کا یہ موقف تھا کہ بیشتر اموات جاپانی انسیفلائٹس یعنی جاپانی دماغی بخار سے ہوتی ہیں جو مچھروں کے کانٹے سے ہوتا ہے۔ لیکن گزشتہ تقریبا دس برسوں سے بچے دیگر وائرل دماغی بخار سے مر رہے ہیں جس کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اس بخار میں پہلے سر میں درد ہوتا ہے اور اُلٹی ہوتی ہے۔ اس کے بعد مریض کوما میں چلا جاتا ہے ، دماغ ناکارہ ہوجاتا ہے اور دل اور گردوں پر سوجن آ جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے سب سے زیادہ چھ ماہ سے لے کر پندرہ برس تک کی عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں اور جو بچے علاج کے بعد بچ جاتے ہیں وہ تا عمر دماغی کمزوری کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں