محمد مرسی کو قتل کیا گیا، اخوان المسلمین کا الزام

سرینگر/ مانٹرنگ/ 18جون/ مصر میں حزبِ اختلاف کی کالعدم جماعت ’اخوان المسلمین‘ نے سابق صدر محمد مرسی کی موت کو قتل قرار دیا ہے۔ اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں اخوان نے دنیا بھر میں لوگوں سے مصر کے سفارت خانوں کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی مصر کی حالیہ تاریخ میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے پہلے صدر تھے جو پیر کو اپنے خلاف جاری ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں انتقال کر گئے تھے۔ محمد مرسی کے ایک وکیل عبدالمنعم عبدالمقصود نے بتایا ہے کہ محمد مرسی کو منگل کی صبح دارالحکومت قاہرہ کے مغربی ضلع نصر سٹی میں واقع ایک قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ محمد مرسی کے صاحبزادے احمد مرسی نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ مصر کی حکومت نے انہیں اپنے والد کی میت آبائی صوبے شرقیہ لے جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں قاہرہ میں ہی اخوان المسلمین کے دیگر سینئر قائدین کے پہلو میں دفن کر دیا گیا ہے۔ احمد مرسی نے الزام لگایا کہ مصر کی حکومت نے لوگوں کو سابق صدر کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت سے بھی روکا اور صرف خاندان کے چند افراد کو ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دی۔ محمد مرسی کے اہلِ خانہ نے بھی ان کی موت کو قتل قرار دیا ہے۔ سابق صدر کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ 2013ئ سے مسلسل قید میں تھے جس کے دوران انہیں کئی سال تک قیدِ تنہائی میں بھی رکھا گیا اور انہیں ڈاکٹروں تک رسائی نہیں دی گئی۔ مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 67 سالہ سابق صدر کو پیر کے روز قاہرہ کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان کے خلاف فلسطینی تنظیم ’حماس‘کے ساتھ رابطوں اور اس کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات میں مقدمے کی سماعت تھی۔ عدالتی ذرائع نے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ انتقال سے قبل محمد مرسی نے کمرۂ عدالت میں جج کو مخاطب کر کے کئی منٹ تک خطاب کیا جس کے فوراً بعد وہ گر گئے اور بے ہوش ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعد ازاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کا اعلان کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں