تعمیروترقی سے متعلق سپیشل کمیٹی کا قیام

 ایک مقامی خبر رساں ایجنسی اے پی آئی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وزارت داخلہ میں ایک سپیشل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق مشن کشمیر کو مضبوط و مستحکم بنانے کےلئے اور ریاست میں تعمیر و ترقی امن و قانون کی حالت پر نظر گذر رکھنے کی خاطر وزارت داخلہ میں ایک سپیشل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ امور داخلہ کے وزیر مملکت اس کے سربراہ ہونگے۔ خفیہ اداروں، نیم فوجی دستوں او ر سیول انتظامیہ کے کئی اعلیٰ حکام اس کے ممبر ہونگے۔ سپیشل کمیٹی ریاست جموں کشمیر کے حالات و واقعات جن میں خاص طور پر تعمیر و ترقی،روزگار سے جڑے معاملات شامل ہیں کے بارے میں کمیٹی ہر ہفتے وزیر اعظم آفس کو رپورٹ پیش کرتی رہے گی ۔ایجنسی کے مطابق وزیر اعظم نے اس کمیٹی کو کشمیر کے حوالے بعض سے اہم نوعیت کی ذمہ داریاں سونپی ہیں اور اس بات کا یقین دلایا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات اور تجاویز پرعمل درآمد کے سلسلے میں کوئی تاخیر نہیں کی جاے گی ۔وزیر اعظم نے کشمیر کے بارے میں جو خصوصی ہدایات دی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں تعمیر وترقی کو یقینی بنانے اور مرکز کی جانب سے شروع کی گئی سکیموں کے ذریعے عام شہریوں کو فایدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ رشوت ستانی اور بد عنوانیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور سرکاری اداروں میں جوابدہی کو یقینی بنانے کےلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھاے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی کے ذمہ یہ کام بھی رکھا گیا ہے کہ وہ روزگار سے جڑے معاملات کے بارے میں بھی وقتاًفوقتاًاپنی سفارشات یا تجاویز پیش کرے تاکہ اس بارے میں بھی فیصلے لئے جاسکیں ۔ اس کمیٹی کے ذمہ یہ کام بھی رکھا گیا ہے کہ وہ مرکزی سکیموں کی عمل آوری کے بارے میں بھی مرکز کو آگاہ کرے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ ریاست میں کس حد تک ان سکیموں سے استفادہ کیاجارہا ہے ۔مرکز کی جو سکیمیں اس وقت یہاں جاری ہیں ان میں صحت سے متعلق بہت سی ایسی سکیمیں ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو کچھ نہیں معلوم ہے لیکن اگران سکیموں کو لوگ اپنائینگے اور ان سے فایدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے تو صحت کے حوالے سے لوگوںکوزیادہ پریشانی نہیں ہوگی یعنی پیسوں کی عدم دستیابی یا کمی لوگوں کےلئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگی کیوںکہ اس سکیم کے تحت سرکار پانچ لاکھ تک کی رقم بیمار کو فراہم کرے گی۔ مذکورہ کمیٹی کے ذمہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جو لوگ اس سکیم کے تحت رجسٹر کئے جاچکے ہیں آیا ان کو اس سکیم کے فواید ملتے ہیں یا نہیں۔ کبھی کوئی سرکاری افسر یا اہلکار لوگوں کو گمراہ بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سکیم کا کوئی وجود ہی نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ زبانی جمع خرچ ہے ایسے افسر وں اور اہلکاروں کےخلاف کاروائی ناگزیر بن جاتی ہے۔ کمیٹی اس بات کا بھی جائیزہ لے گی کہ آیا مرکزی سکیموں کے تحت جو رقومات ریاست کو واگذار کی گئیں ہیں آیا ان رقومات کو مناسب طریقے سے خرچ کیاجارہا ہے یا نہیں۔ گویا وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے جو کمیٹی تشکیل دی گئی اس کے ذمہ اہم کام سونپے گئے ہیں اور اگر کسی شہر ی کو یہ محسوس ہوگا کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی کی گئی ہے اور وہ اپنی شکایت کمیٹی کے پاس درج کرواسکتا ہے اس سے واقعی کشمیری عوام کو ہی فایدہ مل سکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں