رشوت خورافسروں اور ملازمین کا یوم حساب

 انتظامیہ کو رشوت خور افسروں اور ملازمین سے نجات دلانے کی بات کہہ کر گورنر نے عام لوگوں کو ذہنی سکون عطاکردیا۔ یہ آج کی بات نہیں بلکہ کشمیر میں ہر دور حکومت میں ایسا چلا آیا ہے کہ رشوت کے بل پر ہر وہ کام کیا جاتا رہا ہے جو بنیادی طور پر ناجائیز ہوتا تھا لیکن رشوت لے کر افسر اور ملازمین اس کام کو چٹکیوں میں حل کرتے تھے ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ اب بھی کرتے ہونگے لیکن کل ہی گورنر نے ایک تقریب پر جس طرح اس بات کا واشگاف طور پر اعلان کردیا کہ رشوت خور ملازمین اور افسروں کا یوم حساب آگیا عام لوگوں نے جہاں اس کی سراہنا کی وہاں اس بارے میں خدشات کا بھی اظہار کیا کہ کہیں گورنر صاحب کا اعلان اعلان تک ہی محدود نہ رہ جائے بلکہ ابھی سے اس بارے میں اقدامات کئے جانے چاہئیں کیوںکہ کشمیر میں رشوت نے اپنی جڑیں اتنی مضبوط کردیں کہ ان کو اکھاڑ پھینکنا کارے دارد والا معاملہ بن گیا ہے۔ لیکن جب ریاستی گورنر نے اس بارے میں لوگوں کو سنجیدگی کے ساتھ یقین دہانی کرائی تو یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ اب انتظامیہ رشوت کا قلع قمع کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرےگی۔ کل کی تقریب پر گورنر نے خاص طور پر محکمہ جنگلات کے افسروں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور کہا کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں اس محکمے کی باگ ڈور رہی ہے انہوں نے اس کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرکے لاکھوں کروڑوں روپے ہضم کئے اور ان میں سے کئی ایک افسروں نے دہلی کی پاش کالونیوں میں عالیشان بنگلے خریدے اور ان میں ہی رہایش پذیر ہوئے ۔ گورنر نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ ایسے لوگوں کےخلاف فوری کاروائی کے احکامات صادر کئے گئے جو بد عنوانیوں میں ملوث رہے ہیں ۔ لوگ اب انتظار کررہے ہیں کہ کب ایسے افسروں اور ملازمین کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے گا جنہوں نے اپنی پوزیشنوں کا ناجایز فایدہ اٹھا کر لوٹ کھسوٹ کے تمام سابق ریکارڈ توڑ دئے۔ کشمیر میں رشوت نے کتنے گھر اجاڑ دئیے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیوںکہ جو مستحق اُمیدوار محنت و مشقت سے ملازمتیں حاصل کرسکتے تھے ان کو ڈراپ کرکے منظور نظر افراد کو نوکریاں فراہم کردی گئیں۔ اس طرح ہزاروں پڑھے لکھے اور مستحق امیدواروں کا مستقبل تاریک بنادیا گیا جس کے نتیجے میں ان کے والدین انتہائی مایوس ہوکر اس دنیا سے چل بسے۔ نوکریوں، تربیتی کالجوں میں داخلوں، ٹھیکوں کی الاٹمنٹ غرض ہر معاملے میں مستحقین کو نظر انداز کردیا گیا اور اقربانوازی کنبہ پروری کی بد ترین مثالیں بھی سامنے آئی ہیں۔ حال ہی میں گورنر نے کھادی بورڈ میں سال 2016میں لائی گئی 101تقرریوں کو کالعدم قرار دیا اور ان تقرریوں کے بارے میں نئے سرے سے تحقیقات شروع کردی گئی۔ اس اقدام کوبھی عوامی مفاد میں بہتر قرار دیاگیا۔ جبکہ ہر محکمے میں تعینات ان افسروں اور دوسرے ملازمین کےخلاف سخت کاروائی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے جنہوں نے رشوت کے بل بوتے پر بڑی بڑی جائیدادیں حاصل کرلی ہیں اور مستحقین کے حقوق پر شب خون مار کر اپنے لئے سونے کے محل تعمیر کرلئے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں