افغانستان کی اہم شخصیات اور طالبان کے نمائندے تشدد میں کمی لانے پر متفق

دوحہ 9 جولائیûیو این آئیúیہاں درجنوں طاقتور افغان شخصیات ، طالبان کے نمائندے بشمول وہ لوگ جو طالبان کے سخت حریف ہیں امن مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان پر متفق ہو گئے ۔ یہ اطلاع قطری حکام کی طرف سے دی گئی ہے ۔قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اتفاق پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امن کے رخ پر یہ پہلا قدم ہے ۔ کہ جاتا ہے کہ اس ملاقات کے بعد فریقین نے افغانستان میں تشدد میں کمی لانے کی اپیل ہی نہیں کی بلکہ اس کی یقین دہانی بھی کرائی۔افغان طالبان اور افغان نمائندوں کے درمیان جرمنی اور قطر کی حمایت سے دو روزہ مذاکرات سے ، جس میں امریکہ براہ راست شریک نہیں،حوصلہ افزا نتائج کے پیش نظر امید کی جا رہی ہے کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں 18 برسوں سے جاری نزاعی کیفیت کے خاتمے کی ایک متفقہ راہ ہموار کرنے پر جلدہی اتفاق ہو جائے گا۔ یہ روڈ میپ یکم ستمبر تک تیار ہو سکتی ہے جس کے بعد افغانستان میں متعین امریکہ اور ناٹو کی افواج کی واپسی بھی ممکن ہو پائے گی۔افغانوں کے مابین بات چیت تو کل ہی ختم ہوگئی تھی لیکن تاہم مشترکہ بیان پر اتفاق رائے کا اظہار آج سامنے آیا ہے ۔ ملاقات میں خواتین اور سول سوسائٹی کے ارکان شرکت کی جس میں خواتین کے حقوق کے اسلامی اقدار کے دائرے میں تحفظ کویقینی بنانے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے سے اتفاق کیا گیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں