حریت پسندوں کو انتقام گیری کا نشانہ بنایاجارہا ہے:گیلانی، کہا حکمران سیاسی طور مقابلہ کرنے کے بجائے زورزبردستی کررہے ہیں

سرینگر/چیرمین حریت گ سید علی گیلانی نے حریت راہنما ایاز اکبر کی اہلیہ کی بگڑتی صحت، سینئر مزاحمتی قائد  محمد یٰسین ملک کو 7ñاگست تک پھر سے این آئی اے کی تحویل میں دینے، مزاحمتی خاتون راہنما آسیہ اندرابی کے گھر کو سیل کرنے اور اپنے نواسے انیس الاسلام کو این آئی اے کی جانب سے دوبارہ دہلی طلب کرنے پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حکمران تمام انسانی، اخلاقی اور قانونی اقدار کو پائے حقارت سے ٹھکرا کر یہاں کے آزادی پسند لوگوں کو انتقام گیری کا نشانہ بناکر اپنے قبضہ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت یہاں کے آزادی پسند لوگوں سے اتنا زیادہ خوفزدہ ہوگیا ہے کہ وہ سیاسی سطح پر مقابلہ کرنے کے بجائے انہیں اپنی فوج اور ایجنسیوں کے ذریعے بشت بہ دیوار کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت راہنما ایاز اکبر کی اہلیہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اور پچھلے 2سال ......سے تہاڑ جیل میں نظربند اپنے شوہر کا انتظار کررہی ہے، مگر بے رحم حکمران نشۂ قوت میں مغرورہوکر اس کو اپنے شوہر سے ملنے کا موقع فراہم نہیں کررہے ہیں۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ ایاز اکبر کی اہلیہ کینسر کے مہلک مرض میں مبتلا ہے۔ ایسی حالت میں اُن کے شریک حیات اُن کی تسلی اور حوصلہ کے لیے اُن کے پاس ہونا چاہیے تھا، لیکن آزادی کا مطالبہ اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنے والے ان حریت پسندوں کو جان بوجھ کر اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور رکھ کر ایک مسلسل دردوکرب میں مبتلا کرکے قوتیں اپنے اجتماعی ضمیر کی تسکین کرتے ہیں۔آزادی پسند راہنما نے محمد یٰسین ملک کو 7ñاگست تک پھر سے این آئی کی تحویل میں دے کر تہاڑ جیل میں ان کی مدّت اسیری کو طول دینے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ لوگ اپنے جائز اور پیدائشی حقوق کے حصول کے لیے جمہوری طریقوں سے جدوجہد کرتے ہیں، البتہ جموں کشمیر دنیا میں ایسا واحد خطہ ہے جہاں اپنے حقوق کے حق میں آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موصوف مختلف جسمانی امراض میں مبتلا ہے اور ان کی اسیری سے ان کی تکالیف میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ حریت چیرمین نے تہاڑ جیل میں نظربند حریت پسند خاتون راہنما آسیہ اندرابی کے گھر کو NIAکی جانب سے سیل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حکمران اصولی طور اس حد تک پستی کی طرف جارہے ہیں کہ خاتون راہنما کے گھر کو سیل کرکے اس کے اہل خانہ کو بے گھر کردیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں