بچوں کی شرح اموات میںکمی لانے میں محکمہ صحت کا ہدف مکمل، جموں و کشمیر نے یہ کام ۱۱ برس قبل ہی پورا کیا، اٹل ڈلو نے صحت و طبی تعلیم محکمے کی ستائش کی

سرینگر/جموں کشمیر ریاست نے چھوٹے بچوں کی شرح اموات پر قابو پانے کیلئے جاری کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے پانچ برس تک کے بچوں کے شرح اموات میں رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی طرف سے جاری کئے گئے عداد و شمار کے مطابق نمایاں کمی درج کی ہے اور یہ شرح پہلے 26 تھی اور اب 24 تک پہنچ گئی ہے جبکہ قومی سطح کی یہ شرح 37 ہے ۔محکمہ صحت و طبی تعلیم  نے جانکاری دی ہے کہ یہ ہدف ریاست کو 2030 تک حاصل کرنا تھا تا ہم ریاست نے یہ 11 برس پہلے ہی حاصل کیا ۔ محکمے نے این ایچ ایم کے اشتراک سے سنجیدہ کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ریاست بھر کے سرکاری طبی اداروں میں نوزاہد بچوں کی طبی نگہداشت کے نظام کو مزید مستحکم بنایا اور اس میں کئی موثر سہولیات متعارف کی گئیں ۔ اس تعلق سے ریاست کے ضلع ہسپتالوں میں 26 ایس این سی یو ،67 کمیونٹی ہیلتھ مراکز پر این بی ایس یو قایم کئے گئے اس کے علاوہ 282 ڈلوری پوائنٹس پر این بی سی سی قایم کئے گئے اور اس عمل میں قومی صحت مشن نے نمایاں رول ادا کیا ۔ نوزاہد بچوں کی زندگیاں بچانے اور انہیں بہتر سے بہتر سہولیات بہم پہنچانے کیلئے محکمہ کی طرف سے کئی اختراعی اقدامات کئے گئے جن کے خاطر خواہ نتایج سامنے آ گئے ۔ دریں اثنا فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم اتل ڈولو اور مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم جموں کشمیر بھوپندر کمار نے ڈاکٹروں ، نیم طبی عملے ، آشا ورکروں اور دیگر متعلقین کا یہ ہدف حاصل کرنے کیلئے سراہنا کی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی منظم کوششوں کی بدولت زچّہ اور بچہ طبی نگہداشت کے مختلف امور میں مزید بہتری آئے گی ۔ واضح رہے کہ صحت و طبی تعلیم محکمے نے فائنانشل کمشنر اتل ڈولو کی سربراہی میں ناروے انڈیا پارٹنر شپ اقدام کے تکنیکی تعاون سے ایک نقشہ راہ تیار کیا ہے جس کی بجٹ ضروریات 154.47 کروڑ روپے ہو گی اور جس کی رو سے 2019 ئ سے لیکر 2022 ئ تک چھوٹے بچوں کی شرح اموات ایک ہندسے میں لائی جائے گی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں