جنگلوں کے بعد چناروں کا صفایا

وادی کی شان چنار کا جس منظم طریقے پر صفایا کیا جارہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ اگلے دس بیس برسوں کے بعد یہاں چنار ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل سکتا۔ وادی کی اس شان کےخلاف کون لوگ سازشیں کررہے ہیں اور اس کے پیچھے کون سے محرکات کار فرما ہیں اس سے باخبر ہونے کی ضرورت ہے اور اس سارے معاملے کو گورنر کی نوٹس میں لانے کےلئے سول سوسائیٹی متحرک ہوگئی ہے۔ اس کا انکشاف سوسائیٹی سے وابستہ معزز ممبران نے آفتاب کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے چناروں کی اندھا دھنڈ کٹائی کو گہری سازش سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت چناروں کی بے دریغ کٹائی کو روکنے کی کوشش نہیں کی جائے گی تو اگلے دس بیس برسوں کے دوران یہاں چنار نام کا کوئی بھی درخت نظر نہیں آسکتا ہے ۔ چناروں کو تحفظ فراہم کرنے کےلئے شاید یہاں ایک محکمہ بھی ہے لیکن اس کا کام کیا ہے اور اس کے ذمہ چناروں کو بچانے کےلئے کون سے اقدامات اٹھانے ہیں محکمہ یہ سب بھول گیا ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران شہر میں تین بڑے بڑے چنار کاٹے گئے جن میں دو پرتاپ پارک میں تھے جبکہ ایک سلفیہ چوک لال بازار میں تھا۔ اب ان چناروں کو کاٹنے کا جواز بھی ان کے پاس ہے اور یہ لوگ کہیں گے کہ یہ چنار کے درخت سوکھ گئے تھے اور ان کو کاٹنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا لیکن سول سوسائیٹی کے مطابق جس جگہ یہ لوگ چنار کاٹنا چاہتے ہیں اس جگہ چنار کی جڑوں میں کوئی کمیکل رات کے دوران ڈالا جاتا ہے جس سے چنار کا درخت خواہ وہ کتنی بھی عمر کا کیوں نہ ہو آہستہ آہستہ سوکھ جاتا ہے جس کے بعد واقعی اسے کاٹنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا ہے۔نشاط اور شالیمار باغ میں سینکڑوں بڑے بڑے چنار کے درخت ہیں وہ کیوں نہیں سوکھ جاتے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی ان لوگوں کی نظریں ان چناروں پر نہیں پڑی ہیں اور اگر وہ چاہیں تو ان باغوں میں موجودہ مغل دور کے چناروںکو چشم زدن میں کاٹ سکتے ہیں۔ گذشتہ دس برسوں میں ایک سروے کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ چنارکے درخت کاٹے گئے جانکار حلقوں کے مطابق ان میں سے بیشتر چناروں کو بلاوجہ کاٹا گیا۔ ٹورسٹ ریسپشن سنٹر کے باہر جو چنار تھے ان کو بلاوجہ کاٹا گیا ان کے موجودگی کے باوجود بھی وہاں گریڈ سپریٹر بنایا جاسکتا تھا۔ اسی طرح این آئی ٹی حضرت بل کے سامنے بھی ایک سرسبز چنار کا درخت کاٹاجارہا ہے آخر اس کی کیا وجوہات ہیں کیوں چناروں کو کاٹنے کی سرکاری طور پر اجازت دی جا رہی ہے اس کی تحقیقات کی جانے چاہئے۔دنیا کے ہر خطہ ایسی نشانیاں ہوتی ہیں جن سے وہ مشہور ہوجاتا ہے اور کشمیر چنار کی وجہ سے اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے لیکن اب جس طرح چناروں کو دھڑا دھڑ کاٹا جارہاہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ اگلے دس بیس برسوں کے دوران یہاں چناروںکا نام و نشان تک باقی نہیں رہےگا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں