آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق رپورٹنگ کا تین روزہ ورکشاپ اختتام، دویدی کی ریاستی ایکشن پلان کے تناظر میں معاملات کو اُجاگر کرنے کی صحافیوں سے اپیل

سرینگر/ذرائع ابلاغ سے جڑے افراد کو آب و ہوا کی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرانے سے متعلق تین روزہ ورکشاپ یہاں اختتام پذیر ہوئی جس دوران ماہرین نے آب و ہوا کے خطرات ، اس کے عوامل، اثرات اور اس سے نمٹنے سے جڑے امور کی شواہد پر مبنی رپورٹنگ کرنے کی ضرورت پر زو ردیا۔اس ورکشاپ کا انعقاد سینٹر فار میڈیا سٹیدیز، انڈین ہمالیاز کلائمیٹ ایڈپٹیشن پروگرام نے ریاستی محکمہ ماحولیات نے مشترکہ طور ہر کیا تھا۔اختتامی خطبے کے دوران کمشنر سیکرٹری اطلاعات، ماحولیات وجنگلات منوج کمار دویدی نے ذرایعے ابلاغ کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ سٹیٹ کلائیمیٹ ایکشن پلان کے تناظر میں معاملات کو اُجاگر کریں تا کہ عام لوگوں میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ گرین سکل ڈیولپمنٹ پروگرام جو ریاست میں شروع کیا گتیا تھا، کو نئے موضوعات تک وعست دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کے لئے ہُنر مند اور تربیت یافہ افرادی قوت تیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اختراعی اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے اور پلاسٹک اور پالیتھن کے استعمال کو ترک کیا جانا چاہئے۔بعد میں منوج دویدی نے ورکشاپ کے شرکائ اسناد بھی تقسیم کیں۔ اس موقعہ پر ڈائریکٹر ماحولیات و ریموٹ سینسنگ بی سدھارتھ کمار بھی موجود تھے۔اس سے قبل ایک راؤنڈ ٹیبل مباحثہ بھی منعقد ہوا جس میں معروف صحافی اطہر پرویز، نوڈل افسر سٹیٹ کلائمیٹ چینلج سیل ڈاکٹر ماجد فاروق، پیوپلز انوائرنمنٹل کونسل کے سلمان خورشید، نارتھ کیمپس کشمیر یونیورسٹی کے ڈاکٹر دانش نبی، منیجنگ ایڈیٹر انڈی اسائنس وائیر دنیش سی شرما اور ہیڈ ایڈوکیسی سی ایم ایس انو آنند نے بھی شرکت کی۔مقررین نے اس دوران ذرایع ابلاغ اور سائنسدانوں و پالیسی سازوں کے مابین تفاوت کو دُور کرنے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ میڈیا میں آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق معیاری رپورٹنگ کو یقینی بنایا جاسکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں