بھارتی شہریت دو یا وطن واپس بھیج دو، سابق جنگجوئوں کی پاکستانی نژاد بیویوں کاسرکار سے مطالبہ، راہداری فراہم کرنے میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی انجمنوں پر دیا زور

سرینگر/ کے این ایس / سابق جنگجوئوں کی پاکستانی نژاد بیویوں نے مرکزی و ریاستی سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بازآبادکاری کےلئے یا تو انہیں بھارتی شہریت فراہم کی جائے یا ممکن نہ ہونے کی صورت میںانہی پاکستان واپس بھیج دیا جائے۔ انہوں نے وطن واپسی کےلئے راہداری فراہم کرنے میں اقوام متحدہ اورحقوق انسانی کی انجمنوںپر زور دیا کہ وہ ان کے جائز مطالبات کو پورا کروانے میں ہندوپاک کی مملکتوں پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔سابق جنگجوئوں کی پاکستانی نژاد بیویوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اُن کی بازآبادکاری کےلئے یا تو انہیں بھارتی شہریت فراہم کی جائے یا ممکن نہ ہونے کی صورت میں انہیں پاکستان واپس بھیج دیا جائے۔سرینگر میں جمعہ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق جنگجوئوں کی پاکستانی نژاد بیویوں نے، جو مرکزی سرکار کی جانب سے بازآبادکاری پروگرام کے تحت نیپال کے راستے کشمیر آئی ہیں، نے مطالبہ کیا کہ انہیں بھارت کی شہریت فراہم کی جائے اور اگر کسی صورت میں یہ ناممکن ہے تو پھر انہیں واپس پاکستان بھیجنے کے انتظامات کئے جائیں۔ مذکورہ خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کے شہرایبٹ آباد کی رہنے والی طیبہ نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کل ملاکر 350خواتین ہیں جنہوں نے یہاں کے کشمیر سے تعلق رکھنے والے سابق عسکریت پسندوں کےساتھ نکاح کیا تھا۔ ہم کافی عرصے سے اپنے میکے والوں کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ ہمیں اپنے مایکے کی یاد انتہائی ستارہی ہے۔ ہمیں اپنے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ دوسری طرف یہاں آنے کے بعدبھی ہمارے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 ہمیں ہر سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے۔ ہمیں نہ شناختی کارڈ فراہم کئے جاتے ہیں اور نہ ہی ہمیں عام خواتین کو ملنے والی مراعات سے نوازا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہماری روز مرہ زندگی میں سخت مشکلات اُٹھانی پڑرہی ہے۔طیبہ کا کہنا تھا کہ ہمارا سرکار سے یہی مطالبہ ہے کہ ہمیں بھارت کی شہریت فراہم کی جائے۔ ہم حکومت ہندوستان اور یہاں کی ریاستی سرکار سے اپیل کرتی ہیں کہ ہمیں سفری دستاویزات فراہم کریں تاکہ ہم اپنے ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں کےساتھ ملاقات کرسکیں اور اگر ایسا ممکن نہیں تو ہمیں واپس پاکستان ہی بھیج دیا جائے۔اس موقعے پر مذکورہ خواتین نے وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، ریاستی گورنر ایس پی ملک اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے مسئلہ کے تئیں فوری مداخلت کی درخواست کی۔ انہوں نے اپنی وطن واپسی کےلئے راہداری فراہم کرنے میں اقوام متحدہ اورحقوق انسانی کی انجمنوںپر زور دیا کہ وہ ان کے جائز مطالبات کو پورا کروانے میں ہندوپاک کی مملکتوں پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔انہوںنے الزام عائد کیا کہ انہیں پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں موجود اُن کے گھر والوں سے ملنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے کیوں کہ ان کے پاس سفری دستاویزات موجود نہیں ہیں۔یاد رہے سینکڑوں کی تعداد میں سابق جنگجومرکزی سرکار کی طرف سے شروع کی گئی بازآبادکاری اسکیم کے تحت پاکستان سے گزشتہ برسوں کے دوران واپس آگئے اور انہوں نے اُن پاکستانی خواتین کو بھی ساتھ لایا جن کےساتھ انہوں نے وہاں نکاح کیا تھا البتہ کئی برس گزرنے کے باوجود پاکستانی نژاد خواتین اور اُن کے بچے ہنوز شہری حقوق کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات سے محروم ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں