13جولائی کے پیش نظر، آج شہر خاص میں امتناعی احکامات نافذ، خواجہ بازار میں نقشبند صاحبؒ کے مزار شہدا کو سیل کیاگیا، جمعہ کو تاریخی جامع مسجد کے منبرومحراب خاموش رہے، میرواعظ مولوی عمر فاروق خانہ نظربند، پورے شہر میں سخت ترین حفاظتی انتظامات

سرینگر/ جے کے این ایس /مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے پیش نظر انتظامیہ نے آج شہر خاص کے پانچ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امن و امان کو بحال رکھنے ، لوگوں کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر بندشیں عائد رہیں گی۔  13جولائی کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر خاص کے پانچ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نمائندے نے بتایا کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے ساتھ ہی خواجہ بازار میں مزار شہدا ئ کو سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی گئی ۔  ذرائع نے بتایا کہ خواجہ بازار میں مزار شہدائ کو پوری طرح سے سیکورٹی فورسز نے سیل کیا اور اس پورے علاقے کو فوجی چھاونی میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ 13جولائی کو خراج عقیدت ادا کرنے کی خاطر انتظامیہ سے وابستہ آفیسران ، نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور دوسری چھوٹی بڑی سیاسی تنظیموں سے وابستہ لیڈران آج مزار شہدا پر حاضری دے کر اُنہیں خراج عقیدت ادا کرئینگے۔ ادھر مقامی عسکریت پسند کی پہلی برسی کے موقع پر جمعہ کو شہر خاص کے نوہٹہ ، گوجوارہ ، راجوری کدل ، صراف کدل اور بہوری کد ل علاقوں میں انتظامیہ نے بندشیں عائد کی گئی جس کے نتیجے میں معمولات /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
زندگی ٹھپ ہوکررہ گئیں جبکہ تاریخی جامع مسجد میں ایک بار پھر نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ جامع مسجد کو سیکورٹی فورسز نے پوری طرح سے سیل کیا تھا اور کسی کو بھی جامع مسجد کی اور جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔  مقامی عسکریت پسند سجاد احمد گلکار ساکنہ ملا رٹہ نوہٹہ کی پہلی برسی کے موقع پر شہر خاص میں امکانی احتجاجی مظاہروں کو ٹالنے کیلئے انتظامیہ نے جمعہ کے روز امتناعی احکامات نافذ کئے۔ نمائندے نے بتایاکہ جمعہ اعلیٰ الصبح ہی سیکورٹی فورسز نے جامع مسجد اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا تھا تاہم لوگوں کے چلنے پھرنے پر کوئی پابندی عائدنہیں تھی۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز نے حول سے لے کر خواجہ بازار علاقے تک کی شاہراہ کو کانٹے دار تار سے سیل کیا تھا جس کی وجہ سے اسکولوں میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کو سخت دقتوں کا سامنا کرناپڑا۔ ادھر پائین شہر میںسخت ترین پابندیوں کے باعث نوہٹہ کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے موقعہ پر ایک بار اذان نہیں گونجی جبکہ انتظامیہ نے اس مسجد پر سخت پہرے لگا کر نمازیوں کو نمازباجماعت ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ مسجد کی طرف جانے والے تمام راستے مکمل طور سیل کردئے گئے تھے اور وہاں کی طرف جانے کی کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔تاریخی جامع مسجدکے نواحی علاقوں اوراس مرکزی مسجدکی طرف جانے والی سبھی سڑکوں اورگلی کوچوں کوصبح سے ہی مکمل طورسیل رکھاگیاتھا۔ چوراہوں ،نکڑوں اورگلی کوچوں کے دہانوں پرپولیس اورسی آر پی ایف کے دستے چوکنارکھے گئے تھے اورکسی بھی شخص کوجامع مسجدکی جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ تاریخی جامع مسجدمیں نمازجمعہ پرپابندی عائدکرنے کیلئے کرفیوجیسی بندشیں سختی کیساتھ رکھی گئیں۔ تاریخی جامع مسجد کے اردگرد علاقوں کو سیل کرنے کے باعث مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔  حریت کانفرنس اور عوامی مجلس عمل نے حریت چیرمین اورتنظیم کے سربراہ جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو ایک بار پھر اپنی رہائش گاہ  میرواعظ منزل نگین میں نظر بند کرکے انکی پر امن سیاسی و دینی سرگرمیوں پر طاقت کے بل پر قدغن عائد کرنے  اور مسلمانان کشمیر کی عظیم دینی و روحانی عبادتگاہ مرکزی جامع مسجد سرینگر کو ایک بار پھربندشوں کے دائرے میں لاکر وہاں  نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کئے جانے اور شہر خاص کے بیشتر حصوں کو پابندیوں اور بندشوں کی زد میں لانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے  اسے حکمرانوں کا جارحانہ اقدام قرار دیا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن، میرواعظ کشمیر کو اپنی منصبی ذمہ داریوں سے روکنے کا عمل یہاں کے مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے ۔بیان میں کہاگیا کہ سربراہ تنظیم جنہیں آج۳۱ جولائی یوم شہدائ کے پروگرام کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے تنظیم کے مرکزی دفتر میرواعظ منزل سرینگر پر تنظیم کی ایک غیر معمولی ورکرس ریلے(workers Rally) کی قیادت کرنی تھی لیکن حکمرانوں نے موصوف کو اپنی رہائش گاہ میں نظر بند کرکے ان کی پر امن سرگرمیوں پر جس طرح پابندی عائد کردی وہ انتہائی مذموم، غیر جمہوری، غیر اخلاقی اور اظہار رائے کی آزادی کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے ۔اس دوران عوامی مجلس عمل نے 13 جولائی1931 کے جانباز شہدائ اور آج تک کے جملہ شہدائے کشمیر کو ان کی عظیم قربانیوں پر شاندار الفاظ مین خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ان قربانیوں کو کشمیریوں کی رواں جدوجہد آزادی کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے ۔بیان میں یہ بات زو ر دیکر کہی گئی کہ طے شدہ پروگرام کے تحت کل ۳۱ جولائی کو جناب میرواعظ کی قیادت میں مرکزی جامع مسجد سرینگر سے بعد نماز ظہر مزار شہدائ نقشبند صاحبؒ تک ایک پرامن جلوس نکالا جائیگااور ۳۱ جولائی کے شہدائ کو شایان شان طریقے پر خراج عقیدت پیش کیا جائیگا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں