ائر بیسوں پر جنگی طیارے ہٹائو، فضائی حدود کھولیں گے اسلام آباد کا نئی دہلی کی پیشکش پر رد عمل

سرینگر/الفا نیوز سروس /بھارتی طیاروںکےلئے فضائی حدود کھولنے کی بھارتی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے واضح کر دیا کہ جب تک بھارت سرحد کے نزدیک ائربیسوں سے جنگی طیاروں’’ فائٹر جیٹ‘‘ واپس نہیں بھیجے دےگا تب تک بھارتی طیاروں کےلئے فضائی حدود کھولنے کا سوال ہی نہیں ہے۔اس دوران پاکستانی فوج نے  خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے کنٹرول لائن پر گولہ باری نہیں روکی تو جواب میں سنگین جوابی کاروائی کی جائےگی ۔ پاکستانی فضائیہ کی سیکریڑی شاہ رخ نصرت نے میڈیا کو بتایا کہ بھارت نے پاکستان کو اپنی فضائی حدود بھارتی کمرشل طیاروں کےلئے کھولنے کی پیش کش کی اور اس کے جواب میں پاکستانی حکومت کا یہ فیصلہ ہے جب تک نہ بھارت اپنے ائر بیسوں سے جنگی طیارے ہٹا لے گا جو کہ سرحد کے بالکل قریب رکھے گئے تب تک پاکستان فضائی حدود نہیں کھول سکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ ملک کی سلامتی کےلئے اٹھایا جانے والا قدم ہے جس کو اسی نظر سے دیکھا جاناچاہئے ا،نہوںنے مزید کہاکہ بالاکوٹ حملے کے بعد سے بھارت نے کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر جنگی طیارے ائر بیسوںپر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے پاکستان اپنی ائر بیس کو محفوظ تصور نہیں کر سکتا ہے لہذا خطرات منڈلاتے رہیں گے لہذا بھارت کی اس پیش کش کو مسترد کر دیا جاتا ہے ،تاہم انہوںنے کہاکہ اگر جنگی طیارے ہٹ گئے تو یقینی طور پر پاکستان بھارت کی فضائیہ کےلئے اپنی حدود کھول دےگا ۔اس دوران پاکستانی فوج نے آج خبردار کیا ہے کہ کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کا جواب اس لئے احتیاط سے دیا جارہا ہے کیونکہ دونوں طرف کشمیری بھائی موجود ہیںلہذا اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے محتاط رد عمل دیا جارہا ہے حالانکہ پاکستان دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس دوران انہوں نے مزید کہاکہ حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کنٹرول لائن پر صورتحال پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔ الفا نیو زسروس کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ قمر باجوا کےساتھ ساتھ پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور نے آج کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر بدستور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور ایسے میں وادی نیلم ،سیالکوٹ اور دیگر مقامات پر جان بوجھ کر کشمیری عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
انہوںنے مزید کہاکہ حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان بھارت کی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کےلئے تیار ہے لیکن ایسے میں پاکستانی فوج کو بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں