ماحولیاتی تباہی کی بنیادی وجہ جنگلوں کا صفایا

حال ہی میں یہاں آب و ہوا میں تبدیلی کے موضوع پرایک سمینار منعقد ہوا جس میں ماہرین نے اس ریاست کو ملک میں سیلاب کے خطرات والی تیسری سب سے بڑی ریاست قرار دیا جو کہ واقعی عوام کےلئے کوئی اچھی خبر نہیں بلکہ لوگوں میں اس خبر سے تشویش پھیل گئی ہے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کی صورتحال پر کیسے قابو پایا جاسکے گا اور لوگوں کو کیا کرنا ہے ؟ اس سمینار میں ماہرین نے بتایا کہ وقت پر موثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ماحولیاتی توازن مزید بگڑ سکتا ہے یعنی اگر ماحولیاتی توازن بگڑ جائے گا تو لوگ ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہوسکتے ہیں جس پر قابو پانا مشکل ہوجائےگا۔ اس سمینار میں ماہرین نے کہا کہ ہمالیائی خطہ پوری دنیا میں پہاڑی نظام کا ایک پر خطر علاقہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر ملک کی سیلاب کے خطرات سے دوچار ہونے والی تیسری بڑی ریاست ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وقت پر موثر اقدامات اٹھانے سے ماحولیات کو مزید تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے عالمی تمازت کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگلوں کا کٹائو اور ماحولیاتی تباہی عالمی تمازت یعنی گلوبل وامنگ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جہاں تک متذکرہ بالا سمینار کا تعلق ہے اس میں ماہرین نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ جنگلوں کے کٹائو سے ہر صورت میں بچا جانا چاہئے کیوںکہ ہر تباہی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ریاست اور خاص طور پر وادی میں جنگلوں کو بے دریغ کاٹا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ محکمہ فارسٹ کی طرف سے اگرچہ فارسٹ پروٹیکشن فورس بنایا گیا لیکن اس کے باوجود جنگلوں کا صفایا برابر جاری ہے اور اس میں سب سے زیادہ وہی لوگ ملوث ہیں جو جنگلوں کے قریب رہتے ہیں۔ اگر وہ لوگ چاہتے تو جنگلوں کو کٹنے سے بچاسکتے تھے لیکن انہوں نے بھی بہتی گنگا میں ڈبکی لگانے میں ہی بہتری سمجھی حالانکہ جنگلات کا جو صفایا کیا گیا اس کا براہ راست اثر سب سے زیادہ جنگلوں کے قریب ہی رہنے والوں پر پڑا ۔ اکثر و بیشتر جنگلی جانوروں کی دراندازی کا شکار یہی لوگ بنتے ہیں کیوںکہ جب جنگل ہی نہ رہے تو جنگلی جانور کہاں جاینگے اور خوراک کی تلاش میں وہ نزدیکی بستیوں کا رخ کرتے ہیں۔ وادی کے جنوب و شمال میں جو جنگل تھے وہ اتنے گھنے تھے کہ سورج کی روشنی زمین پر نہیں پڑتی تھی لیکن آج کل جنگل اس حد تک صاف کئے گئے کہ وہاں اب آسانی سے فٹ بال گراونڈ بنائے جاسکتے ہیں ۔ اب ہمارے جنگلوں میں اکا دکا درخت ہی نظر آرہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کےلئے جنگل سونے کی کان ثابت ہورہے ہیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو گورنر کبھی یہ  نہیں کہتے کہ جنگلوں کا صفایا کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اسی محکمے کا ہے جس کے کئی اعلیٰ حکام نے اتنی دولت حاصل کرلی کہ انہوں نے بیرون ریاست اور خاص طور پر نئی دہلی میں عالیشان بنگلے تعمیر کئے ہیں اور ان کے پاس بے شمار دولت ہے۔ غرض جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی مسیحا نہیں تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں آفات سماوی سے ہونے والی تباہی کےلئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ غیر سرکاری طور پر کئے گئے ایک حالیہ سروے میں انکشاف کیا گیا کہ وادی میں 85فی صد جنگلات کا صفایا کیاگیا ہے اور اب صرف 15فی صد جنگلات باقی رہ گئے ہیں اور ان پندرہ فی صد جنگلات کے پیچھے بھی جنگل چور لگے ہیں ان کی طرف سے یہ کوشش جاری ہے کہ وہ ان بچے کھچے جنگلوں کا بھی جلد از جلد صفایاکردیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں