نئی تعلیمی پالیسی کے تحت اسکول ایجوکیشن کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی، 12 جولائی âیو این آئی á نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کے چیئر مین چندربھوشن شرما نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی میں اسکولی تعلیم کے لئے ایک کمیشن قائم کیا جائے ۔انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین نے بتایا کہ ہندوستان میں اسکولی تعلیم کی سطح پر کوئی اختراعی اور انقلابی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ تعلیم کا وہ شعبہ اس قدر جامد کیوں ہے جسے بے انتہا متحرک ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم کا یہ شعبہ کسی بھی تعلیمی شعبہ سے زیادہ متحرک ہونا چاہئے کیونکہ اسی شعبے سے تخلیقی صلاحیتوں والے لوگ ابتدائی طور پر ابھرتے ہیں ۔مسٹر شرما نے یو این آئی سے کہا کہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ اعلی اور اعلی تر تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جبکہ اسکولی سطح پر جتنی درسگاہوں کی ضرورت ہے ، دستیاب نہیں ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ جن بچوں کو اسکولوں میں ہونا چاہئے وہ اسکولوں سے باہر پرورش پارہے ہیں ۔جو بچے اسکولوں میں داخل کئے جاتے ہیں ان میں سے بھی بیشتر کسی نہ کسی وجہ سے باہر کردئے جاتے ہیں ۔اسکولوں کا معیار خستہ ہے جس کا اثر اعلی تعلیم پر پڑتا ہے ۔تقابلی مرحلے میں حسب خواں نتائج سامنے نہیں آتے ۔مسٹر شرما نے یہ دعوہ کرتے ہوئے کہ جو لوگ اسکول چلاتے ہیں اور اسکولنگ کو سمجھتے ہیں ، انہیں اسکولوں کے لئے فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہیں کیا جاتا ۔اس لئے ہمیں اسکولی تعلیم کے لئے ایک پروفیشنل ادارے کی ضرورت ہے جس کا نام اسکول ایجوکیشن کمیشن رکھا جاسکتا ہے ۔مسٹر شرما نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امید کی جاتی ہے کہ مرکزی حکومت پارلیمانی ایپ کے تحت اپنی نئی تعلیمی پالیسی میں اسکولی تعلیم کے لئے ایک آزاد اور خودمختار ادارے کا قیام عمل میں لائے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں