آفات سماوی سے بچائو کی تدابیر

گوجر اور بکر وال طبقے کی آمدن کا دارو مدار صرف مال مویشیوں پر ہے۔ یہ لوگ اپنے مال مویشی اور گھریلو ساز و سامان ساتھ لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ تک آتے جاتے رہتے ہیں۔ گھر کی عورتوں کے علاوہ بوڑھے بچے ناتوان توانا بیمار غرض گوجر اور بکروال ہر طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرکے روزی روٹی کمانے کےلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ تک آتے جاتے ہیں۔ موسم کی مار بھی یہی لوگ کھاتے ہیں اور زمانے کی سختیوں کا بھی یہی لوگ مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ لوگ راجوری کے بالائی علاقوں سے اپنا سفر شروع کرکے سونہ مرگ کنگن کی بہکوں میں جاکر تین مہینے تک وہاں قیام کرتے ہیں اس دوران موسم کی قہر سامانیوں سے بھی اس کا مقابلہ ہوتا ہے اور جنگلی جانور بھی ان کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ کبھی کبھار جانورانسانی جانوں کو بھی اپنا نوالہ بنا کر پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں لیکن جس شخص کی یہ جان لیتے ہیں اس کے گھروالوں پر کیا بیتتی ہے یہ صرف وہی جانتے ہیں۔ غرض ان کی زندگیاں دکھوں، مایوسیوں اور اداسیوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے ان کو کبھی بھی سکون نہیں ملتا ہے یہ لوگ ہر وقت بھیڑ بکریوں کے ریوڑ لے کر چلتے نظر آتے ہیں کیا دن کیا رات ہمیشہ متحرک نظر آتے ہیں۔ کیا ان کو سرکار کی طرف سے کوئی راحت دی جاتی ہے جس کے یہ لوگ مستحق ہیں اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہی ہے۔ گذشتہ دنوں پوشکر وانگت کی ایک بہک میں آسمانی بجلی گرنے سے تقریباً اڑھائی سو بھیڑ بکریاں موت کے منہ میں چلی گئیں گویا ان کا لاکھوں کو نقصان ہوا ہے۔ اس کی بھر پائی کون کرے گا اس بارے میں سرکار کچھ بتانے سے معذور ہے کہ کیا آفات سماوی سے ہوئے نقصان کا معاوضہ گوجر بکروالوں کو دیا جاتا ہے یا نہیں البتہ جہاں تک مقامی لوگوں کا تعلق ہے تو انہوں نے متاثرین کی بھر پور مدد کی اور ان کے دکھ درد میں شامل حال رہے۔ آفات سماوی پر کسی کا بس نہیں چلتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے روک سکتا ہے لیکن اتنا تو ضرور کیا جاسکتا ہے کہ اس سے بچائو کی تدابیر کی جاسکتی ہیں ۔چونکہ متعلقہ محکمے کو اس بات کی بھر پور علمیت ہوتی ہے کہ گوجر بکروال کن کن بہکوں میں جانوروں کو چروانے کےلئے لے جاتے ہیں وہاں یک منزلہ شیڈ بہ آسانی بنائے جاسکتے ہیں اور جوں ہی بکروالوں کو اس بات کا احساس ہوگا کہ موسم میں اچانک تبدیلی آسکتی ہے تو وہ آسانی سے مال مویشیوں کو ان شیڈوں میں ہانک سکتے ہیں جس سے یہ موسم کی قہر سامانیوں سے بچ سکتے ہیں۔ اس کوشش میں ایک آدھ جانور لقمہ اجل بھی بن سکتا ہے لیکن اتنا بھاری نقصان نہیں ہوسکتا ہے جتنا گذشتہ دنوں ان بکروال کنبوں کو ہوا جن کے جانور آسمانی بجلی کی زد میں آکر موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بہکوں میں ان گوجر وں اور بکروالوں کےلئے خود رہنے کےلئے بھی مستقل ایسی پناہ گاہیں تعمیر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی جانیں موسم کی قہر سامانیوں اور جنگلی جانوروں سے محفوظ رہ سکیں۔ ان کی وجہ سے لوگوں کو دودھ اور گوشت ملتا ہے اور ان کی وجہ سے بھیڑوں وغیر ہ کی کھالیں بھی دستیاب ہوتی ہیں جو بہت سی دوسری چیزوں کے کام آتی ہیں۔ اسلئے ریاستی حکومت نے جہاں گوجروں اور بکروالوں کےلئے بہت سے اقدامات کئے ہیں وہاں ان کو اور ان کے مال مویشیوں کو بھر پور تحفظ دینے کےلئے حفاظتی اقدمات اٹھانے کی بھی ضرورت ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں