امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے فرانس تجویز مرتب کررہا ہے

دمشق، 16 جولائی âسپوتنکá امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لئے فرانس ایک تجویز تیار کر رہا ہے جس میں امریکہ سے ایران پر عائد پابندی ہٹانے کی اپیل کی گئی ہے ۔ لبنان کے نیوز چینل المیادین نے فرانس کے سفارتی ذرائع کے حوالے سے پیر کو اپنی ایک رپورٹ میں یہ اطلاع دی ۔ اس تجویز کے تحت امریکہ آٹھ ممالک کو ایران سے تیل خریدنے کی چھوٹ دے گا ۔  اس میں کے بدلے ایران کو سال 2015 کے بین الاقوامی جوہری معاہدے کی دفعات پر عمل کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایران عراق، شام اور یمن میں سرگرم اپنے جنگجوؤں کے گروہوں کو امریکی شراکتداری پر حملہ کرنے سے بھی روکے گا ۔ اس سے قبل فرانس کے صدر امینیول میکران نے پیر کو کہا کہ اس ہفتے وہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدے کے تحت مشترکہ کارروائی منصوبہ â جے سی پی او اے á کے تمام قریقین سے گفتگو کریں گے ۔ مسٹر میکران نے کہا کہ علاقے میں موجودہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لئے ایران جوہری معاہدے کو بچائے رکھنا ضروری ہے ۔ گذشتہ ہفتے ایران نے بین الاقوامی جوہری معاہدے کے تحت یورینیم اضافہ کی طے شدہ حد کو پار کر لیا ہے ۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی âآئی اے ای اے á نے اس کی تصدیق بھی کی ہے ۔ ایران نے 3.67 فیصد کی مقررہ حد سے تجاوز کر اپنا یورینیم اضافہ 4.5 فیصد تک کر لیا ہے ۔ واضح ر ہے کہ خلیج عمان میں گذشتہ ماہ آبنائے ہومز کے نزدیک دو تیل ٹینکروں الٹیر اور کوککا کریجیس میں دھماکے کے واقعہ اور ایران کی طرف سے امریکہ کے انٹیلی جنس ڈرون طیارے کو مار گرانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گی ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ سال 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے ۔ معاہدے کے تحت ایران نے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں