نئی دلی نیشنل کانفرنس سے خوفزدہ، مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک دفعہ 370 ہٹانا ناممکن
دفعہ 35 اے ہٹایا گیا تو صدارتی حکمنامے کے ذریعے لاگو کئے گئے تمام قوانین کو بھی خارج کرنا ہوگا: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر//دفعہ370آئین ہند میں درج ہے جبکہ 35اے کو صدارتی حکمنامے کے ذریعے جموں وکشمیر پر نافذ کیا گیا ہے اور جو لوگ ان دفعات کو ہٹانے کی باتیں کرتے ہیں وہ تاریخ اور آئین سے نابلد ہے۔ دفعہ370تب تک ختم نہیں کیا جاسکتا جب تک نہ مسئلہ کشمیر حتمی طور حل ہوجائے اور اگر35اے کو ہٹایا گیا تو مرکز کو وہ تمام قوانین بھی خارج کرنے ہونگے جو صدارتی حکمناموں کے ذریعے جموں وکشمیر پر نافذ کئے گئے ہیں۔ان باتوں کا اظہار صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج ہندوارہ میں ایک فقید المثال پارٹی کنونشن /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سٹیٹ سکریٹری چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، رکن پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، جسٹس حسنین مسعودی، سینئر لیڈران شریف الدین شارق، میر سیف اللہ اور قیصر جمشید لونâایم ایل سیá کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’بڑے بڑے مرکزی لیڈران آج کہتے پھرتے ہیںکہ دفعہ 370عارضی ہے، ہماری لڑائی یہی ہے کہ جو ہمارے ساتھ وعدے کئے گئے ہیں اُن کی طرف دیکھئے، دفعہ370کیوں عارضی ہے یہ سمجھے کی ضرورت ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب ہندوستان اور پاکستان دو ملک بن گئے تو کشمیر کا فیصلہ نہ ہوسکا،ہمارے مہاراجہ فیصلہ نہ کرسکے، انہوں نے کوشش کی کہ یہ ریاست آزاد رہے اور دونوں ممالک کےساتھ اچھے رشتوں میں رہے لیکن مہاراجہ کو بعد میں الحاق کرنا پڑا اور اس ریاست کے تشخص کو بچانے کیلئے مشروط الحاق کیا جس نے بعد میں دفعہ370کی صورت اختیار کرلی اور اُسی وقت یہ قرار پایا گیا کہ جب تک جموں وکشمیر کا آخری فیصلہ نہیں ہوگا تب تک یہ دفعہ قائم رہے گی اور جموں وکشمیر کا حتمی فیصلہ آج تک نہیں ہواہے، جب تک وہ فیصلہ نہیں ہوگا تب تک دفعہ370کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔‘‘صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ   ’’اس کے علاوہ یہ لوگ ہمیں35اے ہٹانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں،یہ قانون1927میں مہاراجہ ہری سنگھ نے لایا ہے، مہاراجہ نے یہ قانون کشمیر یا لداخ کیلئے نہیں بلکہ جموں میں ڈوگری شناخت کو بچانے کیلئے لایا تھا کیونکہ اُنہیں خدشہ تھا کہ پنجابی جموں آخر وہاں غلبہ حاصل کرلیں گے۔ اس قانون کو آزادی کے بعد صدارتی حکمنامے کے تحت دفعہ35اے کے ذریعے ریاست پر نافذ کیا گیا۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ 35اے کو ہٹادیں گے تو انہیں وہ تمام قوانین ہٹانے پڑیں گے جو وقت وقت پر صدارتی حکمناموں کے ذریعے ریاست پر نافذ کئے گئے ہیں۔‘‘نئی دلی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’دلی والوں کی یہی کوشش ہے کہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کی حکومت قائم نہ ہو کیونکہ وہ ہماری جماعت ست خوفزدہ ہیں۔ خوفزدہ اس لئے ہیں کیونکہ ہم جھکنے والے نہیں۔ باقی جماعتوں اور لوگوں کو انہوں نے خرید لیا ہے، جن کے بڑے بڑے بیانات اخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں وہ انہی کے آلہ کار ہیں اور ان لوگوں کو کشمیر کے تشخص کو بچانے کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں، ان کا واحد مقصد کرسی پر بیٹھنا ہے ، پھر چاہئے اس کیلئے انہیں کوئی بھی حد کیوں نہ پار کرنی پڑے، اگر ان کو تشخص بچانے کی فکر ہوتی تو وہ آج ہماری صفوں میں شامل ہوکر قوم کو بچانے کیلئے کھڑے ہوتے کیونکہ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کی نیشنل کانفرنس جموںوکشمیر کے مفادات اور احساسات کے تحفظ کی واحد ضمانت ہے۔ اجتماع میں سینئر پارٹی لیڈران میر غلام رسول ناز، سید فاروق احمد شاہ، سلام الدین بجاڑ، شفقت وٹالی، حاجی محمد رمضان وانی ، یوتھ لیڈر زاہد مغل کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں