حریت اور دیگر لیڈران مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ مشترکہ کوششیں سود مند ثابت ہوسکیں، مسئلہ کشمیر کا حل زیرغور، بہت جلد اعلان متوقع

سرینگر/یو این آئی/ الفا نیوزسروس/ حریت اور دیگر لیڈران کو مذاکرات کی پھر پیش کش کرتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع  راجناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ’’ کشمیر مسئلے کا حل زیر غور اور بہت جلد اس کا اعلان کیا جائیگا اور دنیا کی کوئی طاقت اس کو روک نہیں سکتی ہے‘‘ تاہم انہوںنے کہا کہ’’ جو لوگ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنے کے حق میں نہیں ہے ہمیں معلوم ہے کہ پھر حل کیسے نکلے گا ‘‘۔انہوںنے کہاکہ ’’میں جو بولتا ہوں سوچ سمجھ کر بولتا ہے اور پوری ذمہ داری سے بولتا ہوں ‘‘۔تاہم انہوںنے واضح کردیا کہ ہم نے لوگوں کو بات چیت کی دعوت دی انہوںنے دروزہ بند کر دیا اور اب بھی اگر وہ بات چیت کے حق میں ہے تو پھر آگے آئیں مسئلے کو سمجھ لیں تاکہ مشترکہ طور پر اس کا حل نکالنے میںمدد ملے گی۔ ان باتوں کا اظہار وزیر دفاع نے لداخ میں وار میموریل پر حاضری کے موقعے پر کیا ۔انہوںنے کہاکہ فوج نے ریاست جموںوکشمیر کے اندر ملی ٹینسی کا مقابلہ کرنے کےلئے بہترین حکمت عملی اپنائی ہے اور میں فوج کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ وہ انتہائی کٹھنائیوں کے بیچ بھی کام کرہے ہیں اور ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے میںاپنا رول ادا کرتے ہیں۔ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ فوج ،فورسز اور پولیس کی ملی ٹینسی مخالف کاروائیوں کے دوران قربانیوںکو رائیگاں نہیں ہونے دیا جائیگا انہوںنے کاکہ وار میموریل ان شہدائ کی یاد میں تعمیر کیا گیا جنہوںنے کرگل میں اپنی جانوںکا نذرانہ پیش کرکے ملک کی سالمیت اور دشمن فوج کو شکست دی ہے اور آج اس وار میموریل پر ہی ہم یہ بات صاف کرنا چاہتے ہیں کہ ملک کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائےگی ، کشمیر کی صورتحال کا ذکرکرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میں کشمیر کی صورتحال سے واقف ہوں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 اور آج صورتحال باعث اطمینان ہے کیونکہ وہاں عوام نے تشدد کو مسترد کردیا ہے اور امن بحالی میں فوج اور مرکزی سرکار کے ساتھ مل جل کر کام کررہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ تشدد میںکمی آئی ہے اور نوجوانوں کی ریکروٹمنٹ بھی قریب قریب بند ہوچکی ہے کیونکہ مختلف ایجنسیوں کی جانب سے جو کام کیا جارہا ہے وہ قابل تحسین ہے ۔ اس موقعے پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے دعوی کیا ہے کہ ’’کشمیر مسئلے کا حل زیر غور ہے اور بہت جلد اس مسئلے کا حل نکالاجائیگا ‘‘ انہوںنے مزید کہاکہ میں یہ بات پوری ذمہ داری اور ہوش وہواس میں کہہ رہا رہوں اور ذمہ داری کےساتھ کہہ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل تیار ہے اور بہت جلد اس کا اطلاق ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ میں جو بولتا ہوں وہ سوچ سمجھ کر بول رہا ہے اور ایسے میں ہم چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام بات چیت کا راستہ اختیار کریں ۔انہوںنے علیحدگی پسند لیڈران کا نام نہ لیتے ہوئے اشاروں اشاروںمیںکہاکہ اگر کوئی بات چیت سے مسئلہ کو حل کرنے کے حق میں نہیں ہے تو ہمیں معلوم ہے کیسے کرنا ہے اور کیا کرنا ہے ، راجناتھ سنگھ نے مزید کہاکہ جو لوگ کشمیر مسئلے کا راگ الاپ رہے ہیں میںان کے دروازے پر گیا اور پوری پارلیمنٹ یعنی پارلیمنٹ اراکین ان کے دروازے پر گئے اور بات چیت کےلئے گئے لیکن ان لوگوںنے بات چیت کا دروازہ بند کردیا اور دروزارے نہیں کھولے ۔ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ہم ایک مرتبہ پھر ان لوگوں سے کہنا چاہتے ہیںکہ اگر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں توپھر آگے آو اور سرجوڑ کر بیٹھو تاکہ مشترکہ طور پر اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے ۔راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ‘’’میں ان لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کا حل تیار ہے اور بہت جلد اس کا اعلان کیا جائیگا اور دنیا کی کوئی طاقت کشمیر مسئلے کو حل کرنے سے بھارت کو روک نہیںسکتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر بات چیت سے نہیں تو ہمیں معلوم ہے کس طرح ‘‘ انہوںنے کہاکہ فوج ملی ٹینسی کا کامیابی کےساتھ مقابلہ کررہی یہے اور اس میںاس کو بھاری کامیابیاں حاصل ہورہی ہے ،جنگجو وں کی ہلاکتیں ان کے کمانڈروں کی ہلاکتیں ہو رہی ہے اور سرحد پار سے دراندازی میںبھی بھاری کمی واقع ہوئیہے ۔ راجناتھ سنگھ نے براہ راست بھی علیحدگی پسند اور دیگر لیڈران کو پیش کش کی ہے کہ وہ مذاکراتی میز پر آئیںتاکہ پر امن مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ اب میںمیرا ان کو مشورہ ہے کہ اگر انہیں یہ لگتا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند کرنے سے کچھ فائدہ ہوگا تو یہ وہ اس کو بھی دیکھ لیں لیکن ہم صاف کریں کہ کشمیر مسئلے کا حل تیار ہے اور بہت جلد اس کا اعلان کیا جائیگا ۔راجناتھ سنگھ نے کشمیر کے ایک روزہ دورے کے دوران آج دراس اور لداخ کا دورہ کیا جس کے بعد انہوںنے دو پلوںکا بھی افتتاح کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ،فورسز اور پولیس مل کر جس اندا زے جنگجوئیت کا مقابلہ کررہے ہیں وہ قابل تعریف ہے اور ایسے میں سرحد پار کی دراندازی کو روکنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی جائےگی ،انہوںنے کہا کہ اب سرحد پار کی دراندازی زیادہ دیر تک ممکن نہیں رہےگی ۔اس موقعے پر ان کے ہمراہ فوجی سربراہ جنرل بپن رواوت بھی موجود تھے اور اس دوران چینی فوج کی دراندازی کے معاملے پر بھی بات ہوئی ۔یو این آئی کے مطابق راجناتھ سنگھ نے کہا کہ میں بحیثیت وزیر داخلہ کل جماعتی وفد کے ساتھ کشمیر آیا لیکن ان لوگوں âحریت والوںá نے بات کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ان کا کہنا تھا: 'جب میں اراکین پارلیمان کا کل جماعتی وفد لے کر آیا تو اس وقت میں نے کہا کہ جو لوگ بات چیت کے لئے جانا چاہتے ہیں وہ جاسکتے ہیں شرد یادو جی اور دو تین لوگ بات چیت کے لئے گئے لیکن ان لوگوں نے ان کے ساتھ بات چیت کرنا ضروری نہیں سمجھا۔وزیر دفاع نے کہا کہ جتنی بار میں نے بحیثیت وزیر داخلہ کشمیر آیانام نہاد لیڈروںکے ساتھ بات چیت کرنے کی اپیل کی شاید اتنی بار کسی نے نہیں کی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میں نے سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے بھی اس سلسلے میں پہل کرنے کو کہا۔راجناتھ سنگھ نے حریت لیڈروں کا نام لئے بغیر ان پر الزام لگایا کہ وہ کشمیر کے کمسن لڑکوں کو سنگ باری کی ترغیب دیتے ہیں جبکہ ان کے اپنے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں یا نوکریاں کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا،بار بار وہاں کے خوبصورت نوجوانوں کو بارہ، چودہ سال کے کم عمر لڑکوں کو گمراہ کرکے ان کے ذریعے سنگ باری کرائی جاتی ہے ، اُن کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے اور یہ لیڈر اپنے بچوں کو دوسرے ممالک میں پڑھنے اور نوکریاں کرنے کے لئے بھیجتے ہیں جبکہ کشمیری بچوں سے ہمیں آزادی چاہئے کے نعرے لگواتے ہیں کیسی آزادی؟ کیا آپ ایسی آزادی چاہتے ہیں جیسی پاکستان میں ہے یہ لوگ بھارت کو پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ جموں کشمیر ایک ایسی جنت بنے جہاں دنیا بھر سے لوگ سیر وتفریح کے لئے آئیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوانی سطح پر عالمی برادری یک جٹ ہورہی ہے اور جہاں کشمیر اور جموں کو ملی ٹنسی سے نجات ملے گی وہیں دنیا کو بھی اس سے نجات حاصل ہوگی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں