اننت ناگ کے زچہ بچہ ہسپتال میں حاملہ خاتون ازجان لوگوں نے ہسپتال انتظامیہ کےخلاف احتجاجی مظاہرے کئے ، حکام نے تحقیقات کا حکم دیا

سرینگر/ جے کے این ایس / اننت ناگ کے زچہ بچہ اسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت شعاری کے نتیجے میں درد زہ میں مبتلا خاتون کی موت واقع ہوئی جس کے خلاف لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اسپتال کے اندر اور باہر احتجاجی مظاہرئے کئے اور الزام لگایا کہ اسپتال میں تعینات ڈاکٹرز صرف تنخواہیں حاصل کرنے تک ہی محدود ہو کررہ گئے ہیں جبکہ مریضوں کا علاج ومعالجہ کرانے میں لیت ولعل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔  اننت ناگ کے زچہ بچہ اسپتال میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب درد زہ میں مبتلا حاملہ خاتون ڈاکٹروں کی لاپرواہی کے نتیجے میں جاں بحق ہوئی۔ اسپتال اور آس پاس علاقوں میں خبر پھیلتے ہی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرئے کئے ۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مظاہرین نے کہاکہ زچہ بچہ اسپتال اننت ناگ یونین ازم کے ایک اڈے میں تبدیل ہوکررہ گیا ہے اوریہاں پر زچگی میں مبتلا خواتین کا بہتر طریقے سے علاج نہیں کیا جارہا ہے بلکہ اُنہیں مرنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ رات کے دوران اسپتال میں ڈاکٹرز موجود ہی نہیں ہوتے جس کی وجہ سے درد زہ میں مبتلا خاتون کی موت بھی واقع/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 ہوجاتی ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے بتایا کہ گزشتہ روز درد زہ میں مبتلا خاتون کو اسپتال میں بھرتی کیا گیا تاہم ڈاکٹروں اور نیم طبی عملہ کی لاپرواہی کے نتیجے میں وہ چل بسی ۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ زچہ بچہ اسپتال کو جنگلات منڈی منتقل کیا جائے تاکہ بیماروں کا صحیح ڈھنگ سے علاج ہو سکے۔ ادھر حکام نے معاملے کی نسبت تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ ہیلتھ محکمہ نے مقامی لوگوں کے الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہاکہ اسپتال میں تعینات ڈاکٹر اپنی خدمات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کی کیسے موت واقع ہوئی اس بارے میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق 25برس کی شازیہ جان اہلیہ روف احمد ساکنہ شمسی پورہ اننت ناگ ڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے از جان ہوئی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں