کشمیر کے لیڈران 10فیصد ووٹ حاصل کرکے بھی ممبران اسمبلی اور پارلیمنٹ ممبر بن جاتے ہیں، اگر اس وقت کشمیر میں پُر امن ماحول میں الیکشن ہوا اور ووٹنگ شرح بھی اچھی رہی تو خاندانی سیاستدانوں کو لوگ مسترد کرئینگے :مرکزی وزیر مملکت

سرینگر/ یو پی آئی /وزیر اعظم ہند کے دفتر میں تعینات وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ کشمیر کے لیڈران 10فیصد ووٹ لے کر جیت جاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر یہ بدقسمتی رہی ہے کہ سیاستدانوں نے لوگوں کا استحصال کیا ۔ انہوںنے کہاکہ اگر اس وقت کشمیر میں پُر امن ماحول میں انتخابات ہو اورووٹنگ کی شرح بھی اچھی خاصی رہے تو پچھلے کئی برسوں برسر اقتدار رہنے والی جماعتوں کو لوگ مسترد کرئینگے۔  راجیہ سبھا ٹی وی کو دئے گئے ایک انٹرویو کے دوران وزیر اعظم ہند کے دفتر میں تعینات وزیر مملکت نے کہاکہ ریاست خاص کرو ادی کشمیر کی سیاسی پارٹیوں نے وہاں کے لوگوں کا ہر سطح پر استحصال کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ دس فیصد ووٹ حاصل کرکے بھی وادی میں سیاستدان ممبران اسمبلی اور ممبر پارلیمنٹ بن جاتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ریاست جموںوکشمیر کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ چند خاندانوں نے سیاست کے نام پر لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر کے لوگوں کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ بہت کم ووٹوں حاصل کرکے بھی مفاد خصوصی رکھنے والے سیاستدان کامیاب ہو جاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر وادی کے لوگ خاص کر نوجوان اپنی رائے دہی کا استعمال کرنے کیلئے گھروں سے باہر آئینگے تو ایسے سیاستدانوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باہر کا راستہ دکھایا جائے گا۔ انہوں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
نے کہاکہ اگر ریاست جموںوکشمیر میں اس وقت الیکشن ہونگے اور ووٹنگ شرح بھی اچھی طرح تو اس صورتحال میں ایسے سیاستدانوں کو ناکامی کا منہ دیکھنے پڑے گا جنہوں نے سالہا سال سے کشمیر کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ووٹنگ کی شرح کم ہونے کے باعث ہی خاندانی راج نافذ کرنے والے سیاستدان اقتدار میں آجاتے ہیں تاہم ریاست خاص کر وادی کے لوگوں کو اب یہ احسا س پیدا ہو گیا ہے کہ اُن کے ساتھ استحصال کیا گیا ہے اور وہ اپنے ووٹ کا استعمال کررہے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں