بٹوت، سوپور اور شوپیان میں المناک حادثے 4 افرادلقمہ اجل، بارہمولہ میں غریب کنبے کا واحد کفیل جہلم کی نذر ، علاقے میں کہرام

سرینگر/ یو پی آئی / کے این ایس /بٹوٹ رام بن میں ٹریفک کے ایک المناک حادثے میں دو افراد کی موت واقع ہوئی ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دو گاڑیوں کے درمیان خوفناک ٹکر  کے باعث دو افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔  بٹوٹ رام بن میں اُس وقت کہرام مچ گیا،جب ایک لوڈ کیرئیر زیر نمبر JK-14C 6824کو دو ٹرکوں نے ٹکر مار ی جس کے نتیجے میں لوڈ کیرئیر میں سوار دو افراد جن کی شناخت 20سالہ عثمان فاروق ولد فاروق احمد لون ساکنہ راکھ اور 22سالہ بشارت احمد/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 ولد خورشید احمد ساکنہ گرمول نامی دو نوجوانوں کی موت واقع ہوئی۔ آس پاس علاقوں میں خبر پھیلتے ہی لوگ جائے موقع پر پہنچے انہوںنے دو مقامی جواں سال نوجوانوں کو مردہ حالت میں دیکھا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رام بن ڈاکٹر بشارت نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ایک لوڈ کیرئیر کو دو ٹرکوں نے اس قدر ٹکر ماری کہ دو افراد کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی ۔ انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ ادھر جونہی مقامی نوجوانوں کی نعشیں اُن کے آبائی گائوں پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا، خواتین سینہ کوبی کرنے لگیں بعد میں دونوں کو پُر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ ادھرشمالی قصبہ سوپورکے مضافاتی علاقہ وارپورہ میں اتوارکی صبح اُسوقت غم واندوہ کی لہردوڑ گئی جب یہاں ایک تیزرفتارموٹرسائیکل کی ٹکرسے ایک معمر راہگیرلقمہ اجل بن گیا ۔  شمالی کشمیر کے سوپور علاقے میں اتوار کے روز 55 سالہ غلام محمدوارولدغلام قادر ساکنہ وارپورہ سوپوراپنے آبائی علاقہ میں سڑک کنارے چل رہاتھاکہ ایک تیز رفتارموٹرسائیکل نے اسکوٹکرمارکرشدیدزخمی کردیا ۔ خون میں لت پت غلام محمدوار کوفوری طورپرسب ڈسٹرکٹ اسپتا ل سوپورمنتقل کیاگیاتاہم یہاں موجودڈاکٹروں نے ابتدائی طبی معائنے کے بعدہی اُسے مردہ قراردے دیا۔اسپتال میں تعینات ڈاکٹروں نے بتایاکہ سڑک حادثے میں زخمی شخص کوجب یہاں پہنچایاگیاتووہ تب تک دم توڑچکاتھا۔اُدھر پولیس ذرائع نے سڑ ک حادثے میں ایک شخص کے ازجان ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔اس دوران جنوبی کشمیرکے پہاڑی ضلع شوپیان میں ایک سڑک حادثے میں ایک نوجوان اپنی زندگی کھوبیٹھا۔معلوم ہواکہ 18سالہ نوجوان مونس شبیرولد شبیراحمد ساکنہ گابرپورہ حول شوپیان اسکوٹی پرکہیں جارہاتھاکہ سندئوشرمال شوپیان کے نزدیک ایک تیزرفتارتیل ٹینکرنے اسکوٹی کوٹکرماردی،جسکے نتیجے میں اسکوٹی سوارشدیدزخمی ہوگیا۔نوجوان اسکوٹی سوارکوخون میں لت پت نزدیکی اسپتال منتقل کیاگیاتاہم یہاں موجودڈاکٹروں نے اُسے مردہ قراردے دیا۔معلوم ہواکہ جب 18سالہ مونس شبیرکی میت کوآبائی گھرواقع گابرپورہ حول شوپیان پہنچایاگیاتووہاں کہرام مچ گیا۔ادھرشوپیان پولیس نے شرمال میں پیش آئے المناک سڑک حادثے کی مناسبت سے معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔ادھرشمالی قصبہ بارہمولہ کے مضافاتی علاقہ ناراں تھل کے ایک انتہائی علیل غریب شخص اوراُسکے اہل خانہ پراُسوقت صدمے کاپہاڑ ٹوٹ پڑاجب اس غریب کنبے کانوعمر واحدکفیل دریائے جہلم میں ڈوب کرلقمہ اجل بن گیا ۔ معلوم ہواکہ بسترعلالت پرپڑے اپنے بیمار باپ منظوراحمدڈارکا17سالہ بیٹامومن منظوراپنے بیماروالدکے علاج اورگھریلواخراجات کوپوراکرنے کیلئے درنگ بل بارہمولہ میں پتھرکی ایک کان پرمزدوری کرتا تھا ۔  اتوارکی صبح نوعمرمومن منظورمحنت مزدوری کے دوران شدیدگرمی سے راحت پانے کیلئے کان کے نزدیک ہی دریائے جہلم میں نہانے کیلئے چلاگیا ۔ نہانے کے دوران غریب کنبہ کے اس واحدنوعمرکفیل کوجہلم نگل گیا۔مومن منظورکے غرقآب ہوجانے کی خبرپھیلتے ہی بڑی تعدادمیں اُسکے رشتہ داراوردیگرلوگ جہلم کنارے جمع ہوئے اورسبھی لوگ جہلم کی جانب ملتجانہ نظروں سے دیکھتے رہے کہ شایدجہلم ایک غریب کنبے کے اس واحدکفیل کولوٹا دے ۔دریاکنارے جمع لوگوں نے بتایاکہ 2سال قبل نوعمرمومن پراُسوقت کتابوں بھرابستہ چھوڑ کر گھرکاسارابوجھ اُٹھاناپڑا،جب اُسکابڑابھائی سمیراحمدایک سڑک حادثے میں والدین اوردیگرافرادخانہ کوداغ مفارقت دے گیا۔مومن منظورکے جہلم میں ڈوب جانے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے مقامی نوجوانوں کی مددسے کارروائی شروع کردی اورمتعددکشتیوں اورکچھ موٹربوٹوں کوبھی اس کام پرلگادیاگیالیکن تاحال سترہ سالہ مومن منظورکی نعش کوجہلم سے برآمدنہیں کیاجاسکاتھا۔غورطلب ہے کہ گزشتہ برس قصبہ بارہمولہ میں جنرل بس اسٹینڈکے نزدیک ایک کشتی اُلٹ جانے کے حادثے میں محلہ دیوان باغ بارہمولہ کے تین کمسن طالب علم غرقآب ہوکرجاں بحق ہوگئے تھے اوران تینوں معصومین کی نعشیں کئی کئی روزجہلم سے الگ الگ مقامات پربرآمدہوئی تھیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں