کنٹرول لائن پر گولہ باری ، فوجی ہلاک 4 شہری زخمی، جارحیت کا سختی کےساتھ جواب دینے کےلئے تیار :فوجی حکام

سرینگر/ جے کے این ایس /پاکستان کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول âایل او سیá کے مختلف سیکٹرز پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور خواتین سمیت 4 شہری زخمی ہوگئے۔ادھر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افواج پاکستان سرحدوں کی حفاظت کیلئے کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرئے گی۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کی جانب سے بلا اشتعال گولہ باری کا سختی کے ساتھ جواب دینے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں،پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے رات بھر لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ چار شہری /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
زخمی ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ âآئی ایس پی آرá کے مطابق بھارتی فوج نے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بٹل، سَتوال، خنجر، نکیال اور جندروٹ سیکٹرز میں آرمی کی چیک پوسٹوں اور شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ، مارٹر گولے اور راکٹ فائر کیے۔پاک فوج نے بھارتی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والی بھارتی چیک پوسٹوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جس سے بھارتی چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا۔تاہم فائرنگ کے تبادلے میں حوالدار منظور عباسی شہید جبکہ ایک خاتون اور دو لڑکیوں سمیت 4 افراد زخمی ہوئے۔دفتر خارجہ کے مطابق واں ماہ کے آغاز میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ایل او سی سے چند میٹر کے فاصلے پر چھمب سیکٹر میں دھماکے کے نتیجے میں پاک فوج کے 5 جوان ہلاک ہوئے اور ایک اہلکار زخمی ہوگیا تھا۔واضح رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے ۔ ادھر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ عوام اور سیکورٹی اداروں کی کوششیں اور قربانیاں رنگ لا رہی ہیں اور پاکستان کی داخلی سلامتی صورتحال پہلے سے بہت بہتر ہے۔واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ملک کی سیکورٹی صورتحال سے متعلق آگاہی دی اور فروری کی پاک بھارت کشیدگی سے متعلق بھی میڈیا نمائندگان کو آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی میڈیا کا پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افواج پاکستان نے پاکستانی سرحدوں کا بہادری سے بھر پور دفاع کیا اور پاکستانی عوام اور سیکورٹی اداروں کی کوششیں اور قربانیاں رنگ لا رہی ہیں، پاکستان کی داخلی سلامتی صورتحال پہلے سے بہت بہتر ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز کی بنیادی توجہ اب بلوچستان کی طرف ہے، بلوچستان میں حکومتی ترقیاتی منصوبے فوج کی مدد سے جاری ہیں۔میجر جزل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے سے سرحدی کنٹرول میں بہتری آرہی ہے، سرحدی باڑ لگنے سے دہشت گردوں کی مشکلات میں اضافہ، دہشت گردی کے واقعات بتدریج کم ہوں گے جب کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ کے ساتھ ملکر تعمیروترقی اور بحالی کا کام جاری ہے۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آرمی چیف وزیراعظم کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں شرکت کریں گے اور آرمی چیف پینٹاگون کا دورہ اور امریکی ملٹری قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں