ریاست کی وحدت ، شناخت اور اجتماعیت کا  دفاع  کرنا نوجوانوں کی ذمہ داری اخبارات کو اشتہارات بند کرنا جمہورت پر بد نماداغ: ڈاکٹر فاروق عبداللہ، خلیل بند کی نیشنل کانفرنس میں شمولیت

سرینگر /ریاست کے لوگوں کو موجودہ تباہ کن دور ، پُر آشوب حالات ، اقتصادی بدحالی ، معاشی بدحالی اور دل کے گہرائیوں کے بھنور سے نکالنے کے لئے ہمارے نوجوان پود کی خاص ذمہ داری بنتی ہے ۔چونکہ نوجوان پود ہی قوم کے مستقبل اور معمار ہوتے ہیں اور وہی اس وقت مظلوم اور محقوم عوام کی باگ ڈور سنبھالنے کے اہل ہوتے ہیں اور جن کا مستقبل درخشاہ اور روشن ہونے کو امیدیں ہوتی ہے ان باتوںکا اظہار صدر جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل پارٹی ہیڈکواٹر پر ضلع پلوامہ کے آئے ہوئے ایک خاصی جمعیت خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا اس وقت پر محب وطن کشمیری جموںکے شہری ، لداخ کے شہریوں پر فرض بن جاتا ہے کہ وہ اپنی ریاستی اجتماعت ، /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
وحدانیت اور سدیوں کے اپنے تہذیب و تمدن کلچر زبانیں محفوظ رکھنے کے لئے ہوشیار ہونا چاہئے کیونکہ ہمارے دشمن اس وقت کشمیری عوام کو ہی نہیں بلکہ پوری ریاست کے عوام میں تقسیم کرنے میںلگے ہوئے ہیں اور یہ فرقہ پرست طاقتیں ووٹ کے بدلے نوٹ کی پالیسی اختیار رکھے ہوئے ہیں اس لئے ہمیں اپنے ایمان کو ہر سطح پر محفوظ اور تحفظ میںرکھنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے ۔ چاہئے ہمیں کتنے بھی مشکلات اور سر کی بازی بھی دینے پڑے ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فرقہ پرست اور مسلمانوںکے دشمن پوری طرح ہمیں پھوٹ ڈالنے ہماری حق و صداقت کی آواز بے وزن کرنے کے لئے دھونس دباؤ پر ڈتے ہیں ۔ اللہ کے فضل وکرم اور لوگوں کے اشتراک سے اہل کشمیر ان کشمیر دشمن عناصروں کو خاک میں ملا دیں گے اور ان کی مزموم سازشیں بھی زمین بوس کرتے رہے گے ۔ بدقسمتی سے ان طاقتوںکو ریاست میں قدم جمانے کی راہ ہموار کرنے والے وہ لوگ ہے جنہوںنے لوگوںسے مذہب کے نام پر ووٹ حاصل کر کے اس بات کا اعلان کیا تھا اور قسمیں اُٹھا اُٹھا کر کہا تھا کہ وہی جماعت پی ڈی پی ان کو ریاست میں داخل ہونے کی صلاحت رکھتی ہے جو بعد میں سب سے بڑی فراڈ اور دھوکہ ثابت ہوا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس موقع پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری پریس پلیٹ فارم کی آزادی کی قدغن لگایا جارہا ہے جو ملک کے آئین اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ آزاد صحافت جمہوریت کا چھوتھا ستون مانا گیا ہے اور جس پریس پلیٹ فارم کی آزادی کے لئے کشمیری قوم نے خصوصاً شہدائ وطن اور شہیدان قوم 1931 کے شہدائ نے بھی اپنی جام شہادت نوش کر کے اس پلیٹ فارم کی آزادی کی ممکن بنائی ۔ بدقسمتی سے ریاست خصوصاً وادی کشمیر کے اخبارات اورمیڈیا سے تعلق رکھنے والے پترکاروں پر دھونس دباؤ اور خوف وہراس ماحول برپا رکھا ہے ۔ انہیں اشتہارات بھی بند کئے گئے حالانکہ ان اخبارات میں سینکڈوں پڑھے لکھے اور صحافت سے وابستہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہمارے نوجوان کام کرتے ہیں اوران اخبارات کی مالی حالت بھی کمزور سے کمزور کی جارہی ہے تاکہ یہ اخبارات مستقبل میں شائع کرنے کی جسارت نہ رکھیں لیکن افسوس کی بات ہے مرکزی یا گورنر انتظامیہ سخت گیر پالیسی اپنا کر جمہوریت کے اس چھوتھے ستون کو بحال رکھنے کے لئے ابھی تک کوئی بھی کاروائی نہ کی۔ میں دونوںسرکاروںسے اپیل کرتا ہوں کہ فلفور ان اخبارات کو اشتہارات حسب قدیم کی طرح اجرائ کریںورنہ یہ جمہوریت اور آئین ہند کے لئے زیب نہیں دیتا ۔ آزاد صحافت کے ذریعہ ہی عوام کی آواز حکومت کے بڑے بڑے ایوانوں میں پہنچ جاتی ہے اور لوگوں کے مشکلات بھی ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ملک کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ تمام مذہبی انجمنوں ، معزز شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نوجوان وطن ، نوجوان پود کو تباہ کن اور جان لیوا منشیات سے بچانے کے لئے اور انہیں اس بدعت سے دو ر رکھنے کے لئے اپنی سرگرمیاں تیز کریں تاکہ نواجون پود ، منشیات کی تباہ کن بدعات سے بچ جائے۔  اس موقعہ پر سابق پی ڈی پی سرکار کے سابق سینئر کابینہ وزیر اور سابق ضلع صدر پی ڈی پی جناب خلیل محمد بند صاحب نے نیشنل کانفرنس میں باضابطہ طور پر شمولیت کی اور اس موقعہ پر صدر جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے جناب بند صاحب کو پھولوں کے ہار پہنائے اور گرم جوشی کے استقبال اور آؤ بگت کی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں