کشمیر میں لوٹ کھسوٹ کرنےوالوں کو مارو گورنر کا جنگجو نوجوانوں کو مشورہ کہا اگلے دو تین مہینوں کے دوران بعض سابق وزرائ کےخلاف کارروائی ہوگی، ایک طرف شہرخاص کے لوگ انتہائی غربت کی زندگی گذاررہے ہیں،  تو دوسری طرف بڑے آفیسرعیاشیاں کررہے ہیں

کرگل/یو این آئی /جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے 'کرپشن' کو ریاست کی سب سے بڑی بیماری قرار دیتے ہوئے کشمیری جنگجوئوں سے کہا کہ وہ اپنے لوگوں کو مارنے کے بجائے ان لوگوں کو ماریں جنہوں نے پورے کشمیر کی دولت لوٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں تمام کرپٹ افراد کو جیل بھیج کر ان کی جائیدادیں ضبط کرلیتا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ریاست بالخصوص سری نگر کے ڈاون ٹاون میں ناقابل بیان غربت ہے وہاں اسی سری نگر میں افسروں کے پندرہ سے بیس کمروں والے مکانات اور ان میں کروڑوں روپے مالیت کے قالین بچھے ہوئے ہیں۔گورنر موصوف نے ان باتوں کا اظہار اتوار کے روز یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا کہ اگلے دو تین ماہ کے دوران دو سے تین بڑی مچھلیوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا: 'کس کس سے لڑوں۔ میں لڑ لڑ کے کیجری وال ہوجائوں گا۔ میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ عوامی دبائو بھی آنا چاہیے۔ جموں وکشمیر میں سب سے بڑی بیماری کرپشن ہے۔ میں نے حال ہی میں امرناتھ یاترا کا برسر موقع جائزہ لیا۔ وہاں میں نے ہزاروں کی تعداد میں گھوڑے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 والے دیکھے۔ انہوں نے سویٹر تک نہیں پہنے تھے۔ اسی سری نگر میں افسروں کے پندرہ سے بیس کمروں والے مکانات اور ان میں کروڑوں روپے کے قالین بچھے ہوئے ہیں'۔انہوں نے کہا: 'جو افسر ریٹائر ہوئے ہیں ان کے بنگلے دلی کے وسنت کنج اور مہارانی باغ میں ہیں۔ اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں ان پر مقدمے چلاکر ان کو جیل بھیج دیتا اور ان کی دولت ضبط کرکے غریبوں میں تقسیم کرتا۔ ریاست بھر میں غربت ہے۔ سری نگر میں تو غربت کی کوئی حد نہیں ہے۔ شہر کے سب سے پرانے حصے ڈائوں ٹاون کی غریبی بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میں بتا نہیں سکتا کہ وہ پیٹ پالنے کے لئے کیا کیا کرتے ہیں'۔انہوں نے کہا: 'لیکن عیاش لوگوں اور ان خاندانوں جنہوں نے کشمیر کے انتظام کو چلایا ہے ان کی دولت کی کوئی حد نہیں ہے۔ ان کا ایک بنگلہ یہاں، دوسرا دلی، تیسرا دوبئی اور چوتھا لندن میں ہے۔ سری نگر میں کسی بڑے ہوٹل کے بارے میں پتہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں نیتا کا اس میں حصہ ہے۔ ان کی ہر ایک عمارت میں حصہ داری ہے۔ جبکہ دوسری جانب کشمیر کا عام آدمی بری طرح بھگت رہا ہے'۔گورنر ستیہ پال ملک نے کرپٹ افراد بشمول سابق وزرائ  کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا: 'آپ کا تعاون ملا تو میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ اگلے دو تین مہینوں کے دوران میں کم از کم دو تین بڑی مچھلیوں جو وزرائ  رہے ہیں، کے خلاف کارروائی کروں گا اور تب چاہوں گا کہ آپ تالی بجائیں'۔انہوں نے کہا: 'بندوقیں ہاتھ میں لئے کشمیری نوجوان فضول میں اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں۔ پی ایس اووز، ایس پی اووز اور دوسرے لوگوں کو مارتے ہیں۔ بھئی کیوں ان کو مارتے ہو، ان کو مارو جنہوں نے آپ کا ملک لوٹا ہے۔ جنہوں نے سارے کشمیر کی دولت لوٹی ہے۔ کیا آپ نے ان میں سے آج تک کسی کو مارا ہے؟'۔گورنر موصوف نے کہا کہ کشمیری جنگجو فضول میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: 'یہ فضول میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ بندوق سے کوئی چیز حاصل نہیں ہوگی۔ ہندوستان میں بندوق کے ذریعے سرکار کو کوئی نہیں جھکا سکتا۔ سری لنکا میں ایل ٹی ٹی نامی ایک انتہائی طاقتور ملی ٹنٹ تنظیم تھی لیکن ختم ہوگئی۔ سرکاروں سے ایسے نہیں لڑا جاتا۔ بات چیت کے ذریعے آپ سب لے لو'۔گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ کشمیری جنگجو غیر تربیت یافتہ اور غیر معیاری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور تصادم شروع ہونے کے محض دو گھنٹے بعد مارے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا: 'بعض نیتا دلی میں ہم کو ڈراتے ہیں اور یہاں ان کو بھڑکاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ وہ ایک زبان بولیں۔ یہ بچے اب ڈھائی سو کے قریب رہ گئے ہیں۔ سو یا سوا سو پاکستان کے ہیں۔ کہیں تصادم ہوتا ہے تو وہ âپاکستانی جنگجوá مرنے میں دو دن لیتے ہیں جبکہ یہ دو گھنٹوں کے اندر مارے جاتے ہیں۔ ان بے چاروں کو تو اسلحہ چلانے کی واقفیت بھی نہیں ہے۔ ان کے پاس اچھے ہتھیار بھی نہیں ہوتے'۔انہوں نے کہا: 'ہمارے دیوبندی مولوی صاحبان ان کو کہتے ہیں کہ جنت نصیب ہوگی۔ آپ کا مذہبی عقیدہ ہے اور میں اس پر شک نہیں کرتا۔ مولوی صاحبان آپ کو مرنے کے بعد جنت دلا رہے ہیں اور میں آپ کو زندہ رہتے ہوئے دو جنتیں دے رہا ہوں۔ ایک جنت تو خود کشمیر ہے۔ اس کو لو، اس کو ترقی دو، اس کو آگے بڑھائو۔ بہتر مسلمان کے طور پر مرو گے تو وہ جنت بھی ملے گی۔ کیوں بندوق سے مرتے ہو'۔گورنر موصوف نے کشمیر کی صورتحال میں نمایاں بہتری آنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا: 'جاکر دیکھئے گا کہ وادی کا ماحول کس طرح بدلا ہے۔ لوگوں کا غصہ ٹھنڈا پڑگیا ہے۔ لوگ اب سمجھداری کی بات کررہے ہیں۔ تیس برسوں میں پہلی بار ہوا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ آئے تو حریت نے بند کی کال نہیں دی۔ حال ہی میں، میں نے کشمیری برہمنوں کو واپس لانے کی بات کی۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ حریت کے چیف نے کہا کہ میری بھی یہ رائے ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو واپس آنا چاہیے۔ ماحول تیزی کے ساتھ سدھر رہا ہے'۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں