پرتاب پارک میں احتجاج کرنے والے حکومت لا تعلق کیوں؟

 گذشتہ دو مہینے سے سرینگر کی پرتاپ پارک میں دن بھر ہزاروں ملازمین جن میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد شامل ہے مظاہرے کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ کیا دھوپ کیا بارش یہ لوگ ہر تکلیف سہتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہیں۔ ان کے نعروں سے پرتاپ پارک گونجتی رہتی ہے۔ بیچ بیچ میں یہ لوگ مارکیٹ میں نکل کر جلوس بھی نکالتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں بڑے بڑے بینر بھی ہوتے ہیں جن میں ان کے مطالبات درج ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار گھنٹہ گھر کے قریب دھرنا بھی دیتے ہیں وہ بھی مختصر وقت کےلئے کیوںکہ پولیس ان لوگوں کو کسی بھی جگہ ٹکنے نہیں دیتی ہے۔ یہ لوگ کون ہیں جو تقریباًایک دو مہینوں نے دن بھر پرتاپ پارک میں بیٹھے رہتے ہیں اور اپنی قسمت کو کوستے رہتے ہیں۔ ان کا کوئی پرساں حال نہیں۔ مظاہرہ کرنے والے ان ملازمین میں کنٹریکچول اساتذہ،آنگن واڑی ورکرس اینڈ ہیلپرس اور محکمہ واٹر ورکس کے وہ ڈیلی ویجر بھی شامل ہیں جن کو بیک جنبش قلم نوکریوں سے نکالاگیا۔ ان کی آواز کوئی سننے کےلئے تیار نظر نہیں آتا ہے کیونکہ ان کا کوئی ہمدرد بھی نہیں ہے ۔تعجب تو اس بات کا ہے کہ ان کو سرکار کی طرف سے کوئی یہ تک نہیں پوچھتا ہے کہ وہ کون ہیں اور کس لئے گزشتہ دو ماہ سے سراپا احتجاج بنے بیٹھے ہیں۔ کنٹریکچول اساتذہ کا کہنا ہے کہ ان کو بلاوجہ نکالا گیا جبکہ کنٹریکٹ کے مطابق ان کو ابھی تک محکمے میں کام ہی کرنا تھا ان کا مزید کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم میں ٹیچرس کے کئی ہزار پوسٹ خالی ہیں اور ان کو اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ انہیں ان ہی پوسٹوں پر تعینات کیا جائے گا لیکن ان کو اس سے پہلے ہی نکال باہر کیاگیا جبکہ اس سارے معاملے کا گھمبیر پہلو یہ ہے کہ بہت سے نوجوانوں کی عمریں گذرنے لگی ہیں اور وہ اوور ایج ہورہے ہیں۔ اگر ان کو سرکاری نوکریاں فراہم نہیں کی جائیگی تو ان کا حال بے حال ہوجائے گا اور ان کو عمر بھر مصایب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس دوران آنگن واڑی ورکرس اور ہیلپرس کا کہنا ہے کہ انہیں ایک تو بہت کم مشاہرہ دیا جاتا ہے اور وہ بھی دو دو چار چار مہینوں کے بعد اور اس پر طرہ یہ کہ انہیں پنچوں اور سرپنچوں کے ماتحت کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو بقول ان کے نہ صرف ان کی بے عزتی ہے بلکہ ان کی شان کےخلاف ہے انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی ورکرس ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ نہیں بلکہ تقریباًاسی فی صد ورکرس گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ہیں ان کو سرپنچوں کے تابع رکھ کر حکومت ان سے کس قسم کی توقع رکھ رہی ہے انہوں نے کہا کہ جب تک یہ احکامات واپس نہیں لئے جائینگے تب تک ان کےلئے کام کرنا ناممکن بن جائے گا۔ غرض دو ماہ سے کئی ہزار مرد و خواتین پرتاپ پارک میں سراپا احتجاج ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی سرکاری افسر نے ان کا حال چال پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ تعجب کا مقام ہے۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکام ان کے مسایل کاحل تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں