اضافی فورسز دستے اور لوگوں میں سراسیمگی

کشمیر میں مزید دس ہزار فورسز اہلکاروں کی تعیناتی کے اعلان پر عوام میں یہاں جس طرح مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اس کے ساتھ ہی لوگ یہ بھی سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اچانک حکومت کو کیوں یہاں دس ہزار نیم فوجی دستے تعینات کرنے کی ضرورت پڑگئی جبکہ اس وقت حالات نہ تو کنٹرول سے باہر ہیں۔ نہ ہی کسی جگہ پتھرائو کی وار داتیں رونما ہورہی ہیں اور نہ ہی لوگ جلسے جلوسوں کی صورت میں سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ پھر کیوں یہاں اضافی دستوں کی تعیناتی کا اعلا ن کردیا گیا ؟ یہ سوال ہر کشمیری باشندے کے دل و دماغ پر ہچکولے بر سا رہا ہے ۔ جوں ہی وزارت داخلہ کی طرف سے اس بارے میں اعلان کیا گیا اس کے فوراًبعد ہی وادی میں رہنے والے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق ہر کوئی اپنے اپنے اندازے کے مطابق اس خبر پر تبصرے کرنے لگا۔ لیکن دوسری جانب پولیس کی طرف سے ان افواہوں کی نفی کی گئی جن میں کہا گیا کہ آرٹیکل 35 Aکو عید الاضحی کے بعد چونکہ مبینہ طور پر ہٹایا جارہا ہے اسی لئے اضافی فورسز دستے تعینات کئے جارہے ہیں۔ یہ افواہ جنگل کے آگ کی طرح شہر و گام پھیل گئی اور اخبارات کے دفاتر سے لوگ اس بارے میں رابطہ قایم کرنے لگے۔ اس پرریاست کے اعلیٰ پولیس حکام اور سیاسی رہنمائوں نے جو بیانات دئے ہیں ان میں بھی چونکہ تضاد پایا جاتا ہے اسی لئے لوگوں میں تشویش کا پیدا ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ جب پولیس سربراہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ شمالی کشمیر میں بھر پور تعداد میں فورسز دستے تعینات نہیں ہیں اسلئے بقول ان کے مرکزنے یہاں اضافی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے بعد جب اے ڈی جی پی سے استفسار کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے یہاں تعینات بعض فورسز اہلکار ٹریننگ پر جارہے ہیں اسلئے ان کی جگہیں پر کرنے کےلئے نئے فورسز دستے تعینات کئے جارہے ہیں۔ جب آئی جی سی آر پی ایف سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اضافی فورسز دستوں کی تعیناتی معمول کی بات ہے۔ اس ریاست میں بی جے پی کے سربراہ سے جب اخباری نمایندوں نے جب استفسار کیاتو ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافی دستے الیکشن کےلئے لائے جارہے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریاست میں دور دور تک انتخابی عمل کی شروعات کا پتہ نہیں چل رہا ہے کیوںکہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے اس بارے میں کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی لوگوں کو خوامخواہ خوفزدہ کررہے ہیں۔ بی جے پی کے قومی نائب صدر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 35Aہٹانے کی بات نہیں کیوںکہ یہ مسئلہ عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ اسی مسلے پر وادی میں مین سٹریم پارٹیوں کا کہنا ہے کہ مرکز کچھ نہ کچھ کرنے والا ہے جس کی بنا پر اضافی فورسز دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اب کشمیری لوگ تذبذب میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کو صاف صاف طور پر بتایا جائے کہ معاملہ کیا ہے ۔ وادی اور خاص طور پر شہر میں جگہ جگہ نئے بنکر تعمیر کئے گئے ہیں اور فورسز کی نقل وحرکت بڑھادی گئی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اضافی دستوں کی تعیناتی نے واقعی لوگوں کے دلوں میں شک و شبہات پیدا کردئے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں