سری لنکا بحریہ نے سات ہندوستانی ماہی گیروں کو حراست میں لیا

رامیشورم ،28 جولائی â یواین آئیá سری لنکا بحریہ نے اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر کے اتوار کو سات ہندستانی ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا اور ان کی کشتی بھی ضبط کر لی۔محکمہ ماہی گیری کے حکام نے بتایا کہ رامیشورم سے روز صبح سات ماہی گیر مچھلی پکڑنے کے لئے سمندر میں اترے تھے ۔ وہ جب بین الاقوامی سمندری سرحد کے نزدیک مچھلی پکڑ رہے تھے ، تب ہی ان کی کشتی میں کچھ خرابی آ گئی اور موسم بھی خراب ہو گیا جس کی وجہ سے ان کی کشتی راستہ بھٹک گئی ۔ اسی دوران وہاں گشت کررہی سری لنکا بحریہ نے انہیں ان کی حد میں گھسنے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔حراست میں لئے گئے ماہی گیروں کو پوچھ گچھ اور مزید کارروائی کے لئے منار لے جایا گیا ہے ۔ حراست میں لئے گئے ماہی گیروں کی شناخت جوزف پلراج (37)، نٹو (40)، ناگراج (45)، انناسي (22)، سبھرامنی (35)، منیاسامي (48) اور ستیہ شیلن (25) کے طور پر کی گئی ہے ۔ اس ماہ سری لنکا بحریہ کی طرف سے ہندوستانی ماہی گیروں کو حراست میں لیے جانے کایہ تیسرا واقعہ ہے ۔ اس سے قبل 24 جولائی کو پڈوکوٹائی ضلع کے چار ماہی گیروں اور 12 جولائی کو رام ناتھ پورم ضلع کے چھ ماہی گیروں کو سری لنکا بحریہ نے حراست میں لیا تھا ۔ دونوں واقعات میں ایک کشتی کو بھی ضبط کی گئی تھی۔ اس دوران رامناتھ پورم کے رکن پارلیمنٹ کے نواز کنی نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ماہی گیروں کی جلد رہائی اور ان کی کشتیوں کو چھڑانے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے مسٹر جے شنکر سے سری لنکا کے وزیر خارجہ سے بات چیت کر کے ماہی گیری کے حقوق سے متعلق مسائل کو حل کرنے اور تمل ناڈو کے ماہی گیروں کے روزگار کو تحفظ دینے کی درخواست کی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں