قربانی کے جانوروں کی قیمتیں اور انتظامیہ کی بے بسی

عید قربان کی آمد آمد ہے اور ابھی سے لوگ قربانی کے جانوروں کی تلاش کرنے لگے ہیں۔ شہر سرینگر میں زیادہ تر بھیڑ اور بکروں کی قربانیا ں دی جاتی ہیں جبکہ وادی کے قصبہ جات اور دیہات وغیر ہ میں بڑے جانور بھی ذبح کئے جاتے ہیں۔ عید قربان پر لوگ سب سے زیادہ قربانی کے جانوروں کی دستیابی کےلئے پریشان رہتے ہیں جبکہ اس بات سے تو سب واقف ہیں کہ ہمارے یہاں عیدین پر ہی ہر چیز کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافہ کیا جاتا ہے اور سیل کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا جاتا ہے اب اس پر زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے لیکن عید الاضحی پر قربانی کے جانوروں کی دستیابی اور وہ بھی مناسب قیمتوں پر ہم سب کےلئے سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ تعجب کامقام یہ ہے کہ حکومت ابھی تک گوشت کی قیمتیں مقرر نہیں کرسکی ہیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ گوشت کےلئے فی کلو ریٹ 440روپے مقرر کی گئی ہے لیکن وادی بھر میں گوشت فی کلو 500روپے کے حساب سے فروخت کیاجاتا ہے اور وہ بھی کھلے عام۔ جب اس بارے میں قصابوں یا کوٹھداروں سے استفسار کیاجاتا ہے تو ان کا کہنا ہے کہ حکام لوگ دفاتر میں قیمتوں کا تعین کرتے ہیں جو ان کو کسی بھی صورت میںمنظور نہیں اسلئے انہوں نے از خود فی کلو ساٹھ روپے کا اضافہ کیا ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے حکام کس حد تک قصابوں اور کوٹھداروں کے سامنے بے بس ہیں جو من مانی قیمتیں مقرر کرکے لوگوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے ہیں اور کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ان کے خلاف کوئی کاروائی کرسکے۔ قصاب یا کوٹھدار چوری چھپے ایسا نہیں کرتے ہیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر لوگوں سے فی کلو پانچ سو روپے وصول کرتے ہیں۔ یہ ہماری انتظامیہ کا حال ہے اب ان سے یہ توقع رکھنا کہ لوگوں کو مناسب قیمتوں پر قربانی کے جانور دستیاب ہونگے عبث ہے۔ کچھ برس پہلے تک شیپ ہسبنڈری کی ایک ونگ کی طرف سے باغ علی مرداں خان میں منڈی قایم کی جاتی تھی جہاں لوگوں کو سرکاری نرخوں پر قربانی کے جانور انتہائی مناسب قیمتوں پر فروخت کئے جاتے تھے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس محکمے نے اب یہ سلسلہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند کردیا ہے۔ اب لوگ سوچ رہے ہیں کہ اس عید پر قربانی کے جانوروں کی کیا ریٹ قصاب کوٹھدار مقرر کرینگے کیوںکہ حکومت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ قربانی کے جانوروں کی ریٹ مقرر کرتی۔ اب لوگوں کو گورنر انتظامیہ سے توقع ہے کہ وہ اس حوالے سے انتظامیہ کو متحرک کرے گی اور کوشش یہ ہوگی کہ لوگوں کو مناسب نرخوں پر قربانی کے جانور مہیا رکھے جائینگے۔ اگر انتظامیہ قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں اپنائے گی تو قصاب کوٹھدار اس معاملے میں بھی اپنی من مانیوں سے باز نہیں آینگے اور اتنی زیادہ ریٹ مقرر کرینگے جس سے لوگوں کےلئے قربانی کے جانور خریدنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بن جائے گا۔ اس لئے انتظامیہ کو کسی کے دبائو میں آے بغیر اس سارے معاملے میں اپنا مثبت رول ادا کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کو مناسب داموں پر قربانی کے جانور دستیاب ہوسکیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں