صحت سے جڑے معاملات پر انتظامی کونسل کے مثبت فیصلے

ریاستی انتظامی کونسل کے اجلاس ،جو گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقد ہوا میں صحت سے جڑے معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد کئی اہم فیصلے کئے گئے جن کو لوگ کافی سرارہے ہیں ۔کونسل کے اجلاس میں سب سے اہم فیصلہ یہ کیاگیا کہ اب لوگوں کو چوبیس گھنٹے ایمبولنس دستیاب رہے گی اس کےلئے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی یعنی یہ سروس مفت ہوگی۔ لوگوں سے کہا گیا کہ جب بھی انہیں ایمبولنس کی ضرورت ہوگی وہ ٹول فری نمبرات 102ےا108پر رابط قایم کرسکتے ہیں اور ان کو فوری طور ایمبولنس فراہم کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ حاملہ خواتین، ایکسیڈنٹ کیسز،ایمر جنسیوں اور دوسرے اسی طرح کے معاملات میں لوگوں کو فوری طور ایمبولنس سہولیات بغیر کوئی فیس ادا کئے بہم پہنچائی جائے گی۔ اگر کسی حاملہ خاتون کو ہسپتال پہنچانا ہوتو لوگ اس کےلئے 102اور ایمرجنسیوں اور حادثات کی صورت میں 108نمبر ڈایل کرسکتے ہیں۔ یہ سروس اس سال اکتوبر سے شروع ہوگی۔ ریاستی انتظامی کونسل کا یہ ایک اہم اور عوام دوست قدم قرار دیا جاسکتا ہے کیوںکہ کبھی کبھار حالات ایسے بھی بن جاتے ہیں کہ حادثات کے وقت گاڑی نہ ملنے کے سبب متاثر ہ شخص زیادہ خون بہنے کی وجہ سے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسے بھی حالات بن جاتے ہیں کہ حاملہ خاتون کو وقت پر گاڑی نہ ملنے کے سبب یاتو اس کیلئے زبردست مشکلات پیدا ہوتی ہیں یا وہ دم توڑتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے گورنر انتظامیہ کا یہ اقدام بہت ہی اچھا قرار دیاجاسکتا ہے۔ دوسرا اہم کام یہ کیاجانا چاہئے کہ اکثر ہسپتالوں میں بعد دوپہر ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے ہیں اسلئے کچھ ایسا بندوبست کیاجانا چاہئے کہ ڈاکٹروں کو دو شفٹوں میں کام کرنے کی ہدایت دی جائے۔ اس سے یہ ہوگا کہ آوٹ ڈور میں چوبیس گھنٹے ڈاکٹر دستیاب ہونگے۔ ورنہ اس وقت آوٹ ڈور دن کے دو بجے کے بعد ہی بند ہوتا ہے کیوںکہ جب ڈاکٹر ہی نہیں ہوتے ہیں تو آوٹ ڈور کس طرح کھلا رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے ان ہی کالموں میں لکھا جاچکا ہے کہ وادی کے ہر ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی حد سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے اس طرف سرکاری سطح پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اگر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی تعداد بڑھائی جائے گی تو ان پر بوجھ بھی زیادہ نہیں پڑ سکتا ہے اور مریضوں کا بھی اچھی طرح سے علاج معالجہ ممکن ہے۔ صحت ایک ایسی چیز ہے جس پرکسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا ہے۔ اسلئے سرکار کو بھی صحت سے جڑے معاملات کے بارے میں سنجیدگی سے فیصلے لینے چاہئے۔ تاکہ مریضوں کو بہتر طریقے پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ ہسپتالوں میں ضروری ساز و سامان، لیبارٹری میں لازمی اشیا ئ کی موجودگی اور مین پاور سب کے سب ایسے اہم معاملات ہیں جو فوری حل کے متقاضی ہیں۔ لوگوں کو اس بات کی امید ہے کہ گورنر انتطامیہ اگر چاہے گی تو اسی وقت صحت سے جڑے معاملات کے بارے میں اہم فیصلے لے کر بہتر طبی سہولیات بہم پہنچاسکتی ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں کئی کئی ملازمین جن میں ڈاکٹر اور نیم طبی ملازمین بھی شامل ہیں عرضہ دراز سے ایک ہی جگہ پر تعینات ہیں اس لئے ان کے تبادلے عمل میں لاکر ان کو دور درازعلاقوں کو بھیجاجانا چاہئے تاکہ ان علاقوں کے لوگ بھی بہتر طبی سہولیات سے مستفید ہوسکیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں