سیاحوں اور یاتریوں کے نام سرکاری ایڈوائزری، وادی سے فوری طور نکل جائو

سرینگر/جے کے این ایس /مرکزی حکومت نے امر ناتھ یاترا کو معطل کرنے کے احکامات صادر کرتے ہوے یاتریوں اور سیاحوں کو صلاح دی کہ وہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر فوری طور وادی چھوڑ کر چلے جائیں ۔اس کی وجہ بتاتے ہوے مرکزی حکومت نے کہا کہ سرحد پار سے پانچ جیش جنگجووں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ وادی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں کیونکہ وہ خود کش بمبار ہیں ۔تفصیلات کے مطابقسرکار کی طرف سے جو بیان جاری کیاگیا اس میں بتایاگیا کہ حکومت نے امرناتھ یاتریوں اور سیاحو ں کے لئے سیکورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اُن سے کہا ہے کہ وادی میں اپنے قیام کو مختصر کریں ۔پرنسپل سیکرٹری داخلہ شالین کابرا کی طرف سے جاری ایک حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ امرناتھ یاترا کو نشانہ بنانے سے متعلق انٹلی جنس اِن پُٹس ،وادی میں موجودہ سلامتی صورتحال اور سیاحوں و امرناتھ یاتریوں کی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے یاتریوں اور سیاحوں سے کہا گیاہے کہ وہ وادی میں اپنا قیام مختصر کریں اور جلد از جلد واپس لوٹنے کے اقدامات کریں۔خبررساں ایجنسی کے مطابق مرکزی حکومت نے وادی میں مزید 28ہزار/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کا فیصلہ لیتے ہوئے کہاکہ ناسازگار حالات کے پیش نظر اضافی اہلکاروں کی تعیناتی ناگزیر ہے۔ ادھر ائر فورس کے اضافی ہوائی جہاز بھی وادی پہنچا ئے گئے ہیں۔ مزید 28ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ہی پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے او رلوگوں نے ضروریات زندگی کی چیزوں کو ڈمپ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اسی بیچ سرکار نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وادی میں مقیم سیاحوں اور امر ناتھ یاتریوں کو صلاح دی کہ وہ وادی کشمیر سے جتنا جلد ہو سکے نکل جائیں ۔ مرکزی حکومت نے وادی کشمیر میں مزید 28ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں باضابط طورپر حکم نامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ نجی نیوز چینل انڈیا ٹوڈے نے مرکزی وزارت داخلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وادی کشمیر میں عسکریت پسندوں کی جانب سے بڑا حملہ کرنے کے پیش نظر اس طرح کا اقدام اُٹھایا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے ائر فورس کے اضافی جہاز بھی وادی پہنچا ئے ہیں جبکہ جنگجوں کے دوران استعمال ہونے والے بھاری برکم جہاز جس میں سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا ہے کو بھی سر ینگر ائر پورٹ پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال کے دوران افواج کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اسی جہاز کے ذریعے پہنچا دیا جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست خاص کر وادی کشمیر کے متعلق اہم فیصلہ لیا جارہا ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی آئے روز احکامات صادر کئے جار ہے ہیں۔ ادھر سرکار نے جمعہ کو سیاحوں اور امرناتھ یاتریوں کے نام ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے صلاح دی کہ وہ وادی کشمیر سے،جتنا جلد ہوسکے نکل جائیں۔محکمہ داخلہ کے سیکریٹری کی طرف سے جاری ایڈوائزری میں لکھا ہے کہ سیاحوں اور یاتریوں کو کشمیر سے جتنا جلد ہوسکے نکل جانا چاہئے۔ایڈوازری میں مزید لکھا ہے کہ سیاحوں اور یاتریوں پرامکانی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ایڈوائزری کے مطابق وادی کشمیر میں موجودہ صورتحال کے پس منظرمیں سیاحوں اور یاتریوں کو صلاح دی جاتی ہے کہ وہ یہاں سے نکل جائیں۔ادھر مزید 28ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ہی پوری وادی میں ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور لوگوں کی جانب سے چاول اور دوسری ضروریات زندگی کی اشیائ جمع کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تمام پولیس اسٹیشنوں میں تعینات اہلکاروں کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں نے الرٹ جاری کیا ہے کہ جیش سے وابستہ پانچ عسکریت پسند اس طرف آنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاسکت ہیں کیونکہ پانچ جنگجو خود کش بمبار ہے۔ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے الرٹ جاری کرنے کے بعد ہی ریاست میں اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں