مین سٹریم لیڈروں کا وفد رات دیر گئے راج بھون میں ،گورنر کےساتھ ملاقات کی لوگ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سکون سے رہیں :گورنر کی عوام سے تلقین

سرینگر/ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے کل رات دیر گئے شارٹ نوٹس پر سیاسی لیڈروں کے ایک ڈیلی گیشن کے ساتھ ملاقات کی جس میں محبوبہ مفتی ،ڈاکٹر شاہ فیصل ،سجاد لون اور عمران انصاری شامل تھے ۔انہوں نے رات دیر گئے گورنر کے ساتھ ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیاتھا جس پر انہوں نے فوری طور ہاں کہدی ۔ان رہنماوں کے وفد نے کل دن بھر رونما واقعات اور سرکار کی اس ایڈ وائیزری سے پیدا شدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جس میں یاتریوں اور سیاحوں سے کہا گیا کہ وہ فوری طور وادی سے نکل جائیں ۔اس موقعے پر گورنر نے وفد کو بتایا کہ کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 جو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں ان میں بتایا کہ جنگجو نوجوانوں نے یاترا پر حملے کا منصوبہ ترتیب دیا ہے ۔گورنر نے بتایا کہ ان خفیہ اطلاعات کے تناظر میں کل کارپس کمانڈر اور ڈی جی پولیس نے پریس کانفرنس کا اہتمام کیا اور جس میں انہوں نے اس اسلحہ کے بارے میں تفصیلات بتائیں جو فورسز نے بر آمد کیاہے ۔اس کے علاوہ ان خطرات سے بھی اخباری نمایندوں کو آگاہ کیاگیا جو وادی میں جنگجو نوجوانوں کی طرف سے موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز پوری طرح چوکس ہے اور وہ کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کو کامیاب بنانے نہیں دینگے ۔گورنر نے کہا کہ اسی پس منظر میں حکومت نے یاتریوں اور سیاحوں سے کہا کہ وہ یہاں سے چلے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ حساس ہیں کیونکہ یہ باہر سے آے ہوے ہوتے ہیں اور ان کو ان علاقوں کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہوتی ہے جہاں وہ قیام پذیر ہوتے ہیں ۔یہ ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کوبھر پور تحفظ فراہم کرے ۔اسی وجہ سے یاتریوں اور سیاحوں سے کہا گیا کہ وہ واپس چلے جائیں ۔یہ اس لئے بھی کیا گیا تاکہ جنگجو ان پر حملہ نہ کرسکیں ۔انہوں نے کہا کہ غیر ضروری طور پر تناو کی سی صورتحال پیدا کی جاتی ہے اور اس کو دوسرے معاملات سے جوڑا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہی خوف و ہراس پھیلانے کا موجب بن رہا ہے جبکہ یہ محض احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ۔انہوں نے کہا یہ سب شام کو ہی ہوم سیکریٹری اور ڈویثرنل کمشنر نے صاف کیاتھا ۔انہوں نے ان لیڈروں سے کہا کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ اس کو دوسرے معاملات کے ساتھ نہ جوڑیں ۔بلکہ پرامن رہیں اور جن افواہوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاجارہا ہے ان پر بھروسہ نہ کریں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں