این آئی ٹی حضرت بل میں زیرتعلیم غیرریاستی طلبہ کو گاڑیوں میں بھرکرر وانہ کیاگیا، گوگجی باغ پالی ٹیکنیک انتظامیہ نے زیرتعلیم طلبہ کو ہوسٹل چھوڑنے کا حکم دیا

سرینگر/ جے کے این ایس /وادی کے اطراف و اکناف میں دوسرے روز بھی افرا تفری کا ماحول دیکھنے کو ملا جبکہ لوگوں کی جانب سے چاول اور ضروریاتِ زندگی کی اشیائ خریدنے کا سلسلہ جاری ہے۔/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 دریں اثنا نیشنل انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی حضرت بل میں زیر تعلیم جموں ، لداخ اور دوسری ریاستوں کے طالب علموں کو فوری طورپر کیمپ خالی کرنے کے احکامات صادر کئے گئے اور سنیچر اعلیٰ الصبح اُنہیں ٹی آر سی گاڑیوں میں بھر کر جموں منتقل کیا گیا۔ کشمیر پال ٹیکنیک گوگجی باغ کی جانب سے بھی حکم نامہ جاری کیا گیا کہ طلاب فوری طورپر ہوسٹلوں کو خالی کریں۔  وادی کشمیر میں دوسرے روز بھی افرا تفری کا ماحول دیکھنے کوملا اور لوگوں کی جانب سے چاول اور کھانے پینے کی اشیائ خریدنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بیچ اے ٹی ایموں پر بھی دوسرے روز بھی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کوملی۔ نمائندے نے بتایا کہ کل شام گیارہ بجے کے قریب نیشنل کانسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی حضرت بل انتظامیہ کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں یونیورسٹی میں زیر تعلیم غیر ریاستی ، جموں اور لداخ کے طلاب کو سنیچر چھ بجے کے قریب ہوسٹلوں چھوڑنے کے ضمن میں آگاہ کیا گیا ۔ نمائندے کے مطابق سنیچر کے روز صبح سویرے 30ٹی آر سی بسوں میں بھر کر طلبا کو جموں منتقل کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ کشمیر پال ٹیکنیک گوگجی باغ کی جانب سے بھی ایک آرڈر نکالا گیا جس کے تحت زیر تعلیم طلبا کو ہوسٹل چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ۔ نمائندے کا کہنا ہے کہ پوری وادی میں افرا تفری کا ماحول پھیل گیا اور نت نئے آرڈرس جاری کرنے سے حالات سنگین ہو گئی ہے۔ اگر چہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو تسلیاں دی جارہی ہیں کہ کچھ ہونے والا نہیں ہے تاہم جو آرڈرس جاری کئے جا رہے ہیں اُس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے مرکز بہت کچھ کرنا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں فی الحال مرکزی حکومت نے خاموشی اختیار کی ہے ۔ ادھر سرکاری طور پر بتایاگیا کہ سرینگر انتظامیہ نے واضح کیا  ہے کہ این آئی ٹی سرینگر میں کلاسوں کو معطل کرنے کے سلسلے میں لوگوں میں کنفیوزن پیدا ہوا ہے ۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ کلاسوں کے کام کو معطل کرنے کا فیصلہ ادارے کا اپنا فیصلہ ہے اور اس سلسلے میں انتظامیہ کی جانب سے کوئی حکمنامہ جاری نہیں کیا گیا ۔ ڈپٹی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے اس طرح کے سبھی اداروں کئے سربراہوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہوشیار رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ٹی کے طالب علموں کیلئے ادارے کے منتظمین کی درخواست پر ٹرانسپورٹ فراہم کیا گیا ۔ دریں اثنا این آئی ٹی سرینگر نے اپنا حکمنامہ واپس لیتے ہوئے معذرت کا اظہار کیا ہے ۔ منتظمین نے کہا ہے کہ ادارے میں اگلے ہفتے چھٹیوں کا آغاز ہو رہا ہے اور اس کو موجودہ صورتحال کے ساتھ جوڑا نہیں جانا چاہئیے ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وادی کشمیر کے تمام کالجوں میں یکم اگست سے گرمائی چھٹیوں کا آغاز ہوا ہے ۔ 

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں