سرکاری سطح پر آئین شکنی ہورہی ہے، کشمیریوں کو پھربدنام کرنے کی شرمناک کوششیں: مظفر شاہ

سرینگر/ عوامی نیشنل کانفرنس کے سنیئر نائب صدر مظفر شاہ نے پریس کے نمایندوں کو بتایا کہ مرکزی اور ریاستی سطح پر ہر آن نئے نئے حکم جاری ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں عوامی حلقوں میں تشویش گہری ہوتی جارہی ہے۔آپ نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اور جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ان سے یہی تاثر ملتا ہے کہ مرکز  /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
میں اقتدار پر قابض حکمران ہندوستان کی آئین شکنی پر اْتر آئے ہیں۔آپ نے کہا کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35-A  کے تحت خصوصی پوزیشن ریاست کو ہندوستانی آئین نے دی ہے اس کی برقراری کے لئے کسی کو گورنر سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ۔تعجب اور حیرانی کا مقام ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم سے لیکر ریاست کے گورنر کی زبانی یہ بات سنائی گئی کہ خصوصی دفعات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور ریاست میں امن و سلامتی کی فضا قائیم ہونے لگی ہے دوسری طرف سے ریاست میں موجود لاکھوں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے اور کشمیری عوام کی صدیوں پرانی بھائی چارے اور مہمان نوازی کو ایک بار پھر بدنام کرنے کی غرض سے امرناتھ یاتریوں پر حملہ کرنے کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے۔آپ نے کہا کہ حکومت کا نشہ ،طاقت کا غرور اور فوجی قوتوں کا گھمنڈ اور اس کے بھیانک نتائیج تواریخ میں ہم نے پڑھے ہیں اور یہ ہوتا ہی ایسا ہے کہ یہ بڑے بڑوں کا دماغ خراب کردیتا ہے۔اگر آج بھی جموں و کشمیر کی سا  لمیت پر کاری ضرب لگانے کا کوئی منصوبہ باندھا جارہا ہے۔ تویہ کوئی نئی بات نہیں، طاقت کے بل بوتے پر جیسے چاہیں گے لوگوں پر ظلم و ستم ڈھایا جاسکتا ہے لیکن یہ جمہوریت ۔سیکولرازم اور انسانیت کی روح پائمال کرنے کے مترادف کا روائی ہوگی۔آپ نے کہا کہ ریاست کے گورنر بار بار کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی ایسا قدم نہیں اْٹھایا جائے گا۔جس سے کشمیر میں بدامنی کو تقویت مل سکتی ہے لیکن دوسری طرف نئے نئے احکامات جاری ہونے سے گورنر کے بیانات کی تردید ہوتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں