شوپیاں اور سوپور میں خونین معرکہ آرائیاں،  4جنگجو ایک فوجی ایک غیر ریاستی مزدور سمیت 6 ہلاک  درجنوں زخمی، سوپور میں آپریشن جاری ہے

شوپیان /سوپور/ عابد نبی / نیازحسین / شاہ جنید/ جے کے این ایس / شوپیاں اور سوپور میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین خونین تصادم آرائیوں میں چار عسکریت پسند ، ایک فوجی اور ایک غیر ریاستی مزدور سمیت 6افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ پاندوچھن شویپاں میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس دوران سیکورٹی فورسز نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ ادھر سوپور کے ملمانپورہ علاقے میں سنیچر /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
کے روز شروع ہوئی جھڑپ میں دو جنگجو جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ مزید عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے کیلئے جنگجو مخالف آپریشن کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔ دریں اثنا شوپیاں میں جاں بحق ہوئے مقامی عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جمعہ کے روز شوپیاں کے پاندوچھن علاقے کو محاصرے میں لے کر جونہی تلاشی آپریشن شروع کیا تو اس دوران علاقے میں موجود عسکریت پسندوں اور فورسز کے مابین جھڑپ شروع ہوئی ۔ نمائندے کے مطابق جمعہ شام دیر گئے سیکورٹی فورسز نے جائے جھڑپ کے نزدیک ایک عسکریت پسند کی لاش برآمد کی جس کی شناخت زینت السلام نائیکو ساکنہ میمندر شوپیاں کے بطور ہوئی ۔ نمائندے کے مطابق سنیچر کے روز پاندوچھن شوپیاں میں سیکورٹی فورسز نے اور ایک جنگجو جس کی شناخت منظور احمد بٹ ساکنہ وچھی کی لاش برآمد کرکے ضبط کی۔ معلوم ہوا ہے کہ قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد جونہی مقامی عسکریت پسندوں کی لاشیں اُن کے آبائی گائوں پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ، ہزاروں کی تعدا دمیں لوگوں نے مقامی عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ ادھر سوپور کے ملمانپورہ علاقے میں سنیچر کے روز سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین خونین جھڑپ میں دو عدم شناخت عسکریت پسندوں کو فوج نے جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق سنیچر کے روز سیکورٹی فورسز نے سوپور میں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران علاقے میں موجود فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان آمنا سامنا ہوا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق جائے جھڑپ کے نزدیک دو عسکریت پسندوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہے جن کی شناخت اور تنظیمی وابستگی کے بارے میں جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں