گورنر کے ساتھ نیشنل کانفرنس وفد ملاقی، لوگ افواہوں پر کان نہ دھریں، گورنرسیتہ پال ملک - دفعہ 35-A کےساتھ کیا ہونے والا ہے کوئی علمیت نہیں !

سرینگر/ کے این ایس /گورنر ستیہ پال ملک نے عوام الناس سے افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آئینی پوزیشن کےساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے متعلق ریاستی سرکار لاعلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ایام میں جو حکومت کی جانب سے سیکورٹی اقدامات اُٹھائے گئے اُن کا دفعہ 35Aاور 370کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ۔ گورنر نے سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے  /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
کارکنوں کو موجودہ صورتحال کے اندر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کریں۔ گورنر ستیہ پال ملک نے سنیچر کو عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھرے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ جہاں تک آئینی پوزیشن کا سوالہے، ریاستی سرکار کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے لاعلم ہے۔اپیل سے قبل نیشنل کانفرنس کا اعلیٰ سطحی وفد عمر عبداللہ کی قیادت میں گورنر کےساتھ راج بھون میں ملاقی ہوا جس دوران موجودہ غیر یقینی اور اضطرابی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر کے ترجمان نے کہا کہ میٹنگ کے دوران سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والے وفد نے گورنر کو سیاحوں اور یاتریوں کو فوری طور پر کشمیر چھوڑنے کی مابعد صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا۔عمر عبداللہ نے گورنر کو جانکاری فراہم کی کہ مذکورہ اپیل کے بعد کشمیر میں عجیب قسم کی صورتحال اُبھر کر سامنے آگئی جس کے نتیجے میں لوگوں میں خوف اور ڈر کا ماحول پھیلنے کے بعد بازاروں سے اشیائے ضروریہ کا وافر اسٹاک گھروں میں جمع کیاجارہا ہے۔ اس دوران گورنر ستیہ پال ملک نے وفد کو بتایا کہ حالات اس قدر رونما ہوئے کہ حکومت کو مطلوبہ اقدامات اُٹھانے پڑے۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ روز 15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھولن نے خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ جنگجو آنے والے دنوں میں امرناتھ یاترا کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی جانب بے تحاشا جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہورہی ہیں تاہم یہاں تعینات فوج اس کا مردانہ وار مقابلہ کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نوعیت کے ہتھیار سیکورٹی فورسز نے شوپیان علاقے سے برآمد کئے اُس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جنگجو یاترا کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں لہٰذا خطرے کو محسوس کرتے ہوئے یہاں پر اضافی فورسز کی کمک کو طلب کرلیا گیا تاکہ صورتحال کےساتھ معقول طریقے سے نپٹا جاسکے۔گورنر نے وفد کو بتایا کہ اس اُبھرتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ہی ریاستی سرکار نے یاتریوں اور سیاحوں کے نام ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں اپنا دورۂ کشمیر سمیٹنے کی ہدایت کی۔ گورنر کا کہنا کہ یاتری اور سیاح حضرات دہشت گردوں کا آسانی سے نشانہ بن سکتے ہیں لہٰذا ریاستی سرکار نے وقت ضائع کئے بغیر ہی انہیں کشمیر چھوڑنے کی ہدایت کی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہ ہو۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں