قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کا تعین ابھی تک نہیں کیا جا سکا ہے

ذالحجہ کا چاند نظر آگیا ہے اور عید الاضحی کی تقریب سعید سوموار 12اگست کو منائی جارہی ہے ۔اس عید کو عید قربان بھی کہاجاتا ہے کیوںکہ اس عید پر جانوروں کی قربانیاں دی جاتی ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کا ابھی تک تعین نہیں کیاجاسکا ہے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ اس بارے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان ہی کالموں میں حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی تھی کہ اگر محکمہ شیپ ہسبنڈری کی طرف سے قربانی کے جانوروں کی اپنی منڈیاں قایم کی جاتیں تو قصابوں اور کوٹھداروں کو من مانیاں کرنے کا موقعہ نہیں ملتا وہ لوگ اس لئے قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کے نام پر لوگوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ اگرچہ کئی برس قبل محکمہ شیپ ہسبنڈری نے عیدگاہ اور باغ علی مرداں خاں میں اپنی منڈیاں قایم کی تھیں اس سے یہ فایدہ لوگوں کو ضرور ہوا کہ قصابوں اور کوٹھداروں کو من مانیاں کرنے کا موقعہ نہیں مل سکا۔ لیکن اب یہ منڈیاں قائم نہیں کی جا رہی ہیں اس لئے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور کوئی ان کو پوچھتا تک نہیں یہ لوگ احتسابی عمل سے مبرا ہیں۔ اگر ضلع انتظامیہ واقعی لوگوں کو راحت پہنچانا چاہتی ہے تو فوراًقربانی کے جانوروں کی قیمتیں مقرر کی جائیں۔ حالات کی آڑ میں قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں لگائی جارہی ہیں جو لوگوں کی جیبوں پر بھاری پڑتی ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جو حکام گوشت کی قیمتیں مقرر نہیں کرسکے ہیں وہ کس طرح قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کےلئے اقدامات کریں گے ۔ متعلقہ حکام کو اس بات کی مکمل جانکاری ہے کہ قصاب گوشت فی کلو کےلئے پانچ سو وصول کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود قصابوں اور کوٹھداروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے۔ حالانکہ سرکاری طور پر گوشت فی کلو کی قیمت صرف 440روپے مقرر کی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ قصاب لوگوں سے فی کلو ساٹھ روپے زیادہ وصول کرتے ہیں۔ ادھر حالات کی آڑ میں اب دکانداروں نے لوگوں کو لوٹنے کا عمل شروع کیا ہے۔ آج کل جو افواہیں اُڑ رہی ہیں اس کا خاص اثر یہ پڑ رہا ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں اشیا ئے ضروریہ کا زیادہ سے زیادہ سٹاک رکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ دکاندار من مانی قیمتوں پر اشیائے ضروریہ فروخت کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سب دکاندار حالات کا ناجائیز فایدہ نہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو مناسب قیمتوں پر لازمی چیزیں فراہم کرتے ہوں لیکن اس کے باوجود اکثر دکانداروں کے بارے میں اسی طرح کی شکائیتیں موصول ہورہی ہیں۔ اسلئے انتظامیہ کو چاہئے کہ مارکیٹ چکنگ کا سلسلہ تیز کریں اور ناجائیز منا فع کے عوض اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والوں کےخلاف سخت کاروائی کی جائے۔ تاکہ عام لوگوں کو راحت مل سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں