کرتار پور گلیارے کا 90 فیصد کام مکمل

لاہور، 3 اگست âیو این آئیá پاکستان میں واقع سکھوں کے مشہور مذہبی مقام گردوارہ دربار صاحب کے لئے تیار کئے جارہے کرتاپور گلیارے کا 90 فیصد کام زیرو لائن سے گردوارہ تک مکمل ہوچکا ہے ۔ہندوستان کی طرف سے عقیدتمندوں کا پہلا جتھہ پاکستان 9 نومبر کو پہنچے گا۔ اس جتھے میں حالانکہ کتنے زائرین ہوں گے ان کی تعداد کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے ۔پاکستان کی طرف سے گلیارے کے تعمیراتی کام کا افتتاح وزیراعظم عمران خان اور فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کے نومبر میں کئے جانے کے امکانات ہیں۔ اس گلیارے کے تحت اہم سڑکیں، پل، عمارتیں اور دیگر کام 90 فیصد تک مکمل کیا جاچکا ہے ۔سکھوں کے پہلے گروبابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس یہاں گزرے تھے ۔ یہ گردوارہ ہندوستان کی سرحد سے محض چار کلومیٹر دور پاکستان میں واقع ہے ۔ گردوارہ کا دیدار ہندوستانی سرحد کی طرف سے ہوجاتے ہیں اور روزنانہ بڑی تعداد میں سکھ عقیدت مند اکھٹے ہوکر دور سے درشن کرتے ہیں۔کرتارپور کراسنگ ہندوستان کے پنجاب میں ڈیرا بابا نانک اور پاکستان میں گردوارہ دربار صاحب کو جوڑے گا۔ اس گلیارے کے ایک بار شروع ہوجانے کے بعد ہندوستان سے سکھ عقیدت مند یہاں بغیر ویزہ کے آجاسکیں گے ۔ یہ دونوں ممالک کی 1947 میں آزادی کے بعد پہلا ویزہ فری گلیارہ ہوگا۔ دی ایکسپریس ٹریبون کے مطابق اس گلیارے کی تعمیر کی تجویز دو عشرہ پہلے آئی تھی مگر پاکستان میں عمران خان حکومت بننے کے بعد اس نے عملی جامہ پہنایا جب پاکستان نے گلیارے کھولنے کے منصوبہ کا اعلان کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں