حکومت کشمیر میں اپنے تازہ ترین اقدام کی وضاحت کرے :کرن سنگھ

نئی دہلی، 3 اگست âیو این آئیá جموں اور کشمیر کے صدر ریاست رہے کانگریس کے سرکردہ رہنما کرن سنگھ نے آج کہا کہ امر ناتھ یاترا معطل کرنے اور سیاحوں کو وادی سے واپس لوٹنے کی ایڈوائزری جاری کرنے کے حکومت کے اقدام سے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی، خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ اس لئے حکومت کو اس کے اسباب سے متعلق فوراً صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ڈاکٹر کرن سنگھ نے یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں پارٹی کے کچھ دیگر لیڈروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ 70 برسوں سے عوامی زندگی میں رہے ہیں لیکن ایسے عدیم النظیر قدم پہلے کبھی نہیں اٹھائے گئے ۔ امرناتھ یاترا روک دی گئی ہے اور سیاحوں کو کشمیر سے واپس جانے کے لئے کہا گیا ہے ۔ ریاست میں پہلے ہی سے بڑی تعداد میں حفاظتی اہلکار تعینات ہونے کے باوجود مزید 30ہزار سیکورٹی اہلکار بھیجے گئے ہیں۔ اس سے خوف اور خدشات کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا کیوں کررہی ہے ، اس کا کوئی سبب سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔ صرف بارودی سرنگوں یا اسنائسر رائفل ملنے سے ایسے غیر معمول اقدام نہیں اٹھائے جاسکتے ۔ حکومت اس تعلق سے کچھ بھی نہیں بتا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا کوئی حملہ ہونے والا ہے یا کچھ تبدیلیاں کی جانے والی ہیں۔ حکومت کو صورتحال واضح کرنی چاہئے ۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ‘‘حکومت بتائے ۔ ہم قوم پرستی ہیں۔ قوم کی حفاظت کرنے کے لئے قربانی دینے کے لئے تیار ہیں’’۔انہوں نے کہا کہ ملک و بیرون ملک سے لاکھوں لوگ امرناتھ یاترا کے لئے کشمیر پہنچے ہوئے ہیں۔ اسے روکنے سے ان شیو بھکتوں کو یقینی طور پر دھچکا لگا ہوگا۔ مقدس چھڑی مبارک ہر سال امرناتھ لے جائی جاتی ہے ۔ پہلے وہ خود اسے بھیجنے سے پہلے پوجا کرتے تھے ۔ ناگ پنچھمی کے دن چھڑی کی پوجا ہونی ہے اور پورنما کے دن وہ مقدس گپھا میں پہنچتی تھی۔ اب اس کا کیا ہوگا۔ اس بارے میں بھی کچھ پتہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان اقدامات سے ہزاروں لوگوں کے روزگار متاثر ہوئے ہیں۔ جذباتی ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آدھی ریاست تو پہلے ہی جاچکی ہے اور جو بچی ہے اس میں بھی ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ حکومت کو اس کے پیش نظر صورتحال واضح کرنی چاہیے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں