سوڈان میں فوج اور سویلین حزبِ اختلاف کے درمیان عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق

سرینگر/3جولائی/ مانٹرنگ/ سوڈان میں برسرِ اقتدار فوجی کونسل اور حزبِ اختلاف ایک نئے آئینی معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں جس کی بدولت ملک میں عبوری حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو گی۔اس بات کا اعلان اس حوالے سے ثالث کا کردار ادا کرنے والے افریقی یونین کے محمد حسن لیباٹ نے کیا۔ انہوںنے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔اپریل میں فوج کی جانب سے صدر عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سوڈان افراتفری کا شکار ہے۔ اسی ہنگامہ آرائی اور پرتشدد ماحول میں نئے آئینی معاہدے پر کافی طویل بحث جاری رہی۔ تاہم اس اعلان کے بعد سوڈان میں جشن منایا جا رہا ہے۔ گذشتہ کئی ماہ سے سوڈان بحران کی زد میں تھا۔ جولائی میں فوج اور حزبِ اختلاف نے حکومت میں شراکت سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے تاہم مظاہرین اس معاہدے کی مزید تفصیلات کے انتظار میں تھے۔ سوڈان میں مظاہروں کی ابتدا گذشتہ برس دسمبر میں ہوئی جب صدر البشیر کی حکومت نے کفایت شعاری کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا۔ رواں برس اپریل میں خرطوم میں واقع وزارتِ دفاع کے سامنے ہونے والے مظاہروں کے بعد فوج نے صدر البشیر کی حکومت گرا دی تھی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں