غیر ریاستی مزدوروں کی ہزاروںمیں وادی آمد - بانہال سے سرینگر تک ریل میں سفر کرنے کا انکشاف - نہ سکریننگ ہوتی ہے،نا ٹیسٹ اور ناہی سفری تفصیلات معلوم کی جاتی ہیں

جے کے این ایس : سرینگر/جموں کشمیر انتظامیہ کی طرف سے بین الریاستی بس سروس کو31مارچ تک معطل کرنے کے بیچ وادی میں غیر ریاستی مزدوروں کے آنے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے،جس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں سخت فکر و تشویش لاحق ہو رہی ہے۔ حکام نے جموں کشمیر میں بین الریاستی بسوں کی  آوجاہی پر پابندی عاید کی اور31مارچ تک بس سروس کو معطل کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔اس دوران تاہم روزانہ سینکڑوں کی بنیاد پر غیر ریاستی مزدور وارد کشمیر ہو رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مزدور بیشتر بہار،راجستھان،جھارکھنڈ،اڈیسہ اور اتر پردیش سے آتے ہیں،اور بغیر کوئی معقول سکیننگ کئے یہ وادی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں4ہزار کے قریب غیر ریاستی مزدور وادی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں،جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں سخت فکر و تشویش میں مبتلا ہوگئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر ٹنل کے پاس محکمہ صحت کی ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہے تاہم غیر ریاستی مزدوروں نے آسان راستہ یعنی ریل سے سرینگر میں داخل ہونے کا فن بھی سیکھ لیا ہے۔ان ذرائع نے بتایا کہ دوران شب ہی یہ مزدور جموں میں مسافر بردار گاڑیوں میں بانہال تک پہنچتے ہیں اور صبح کی پہلی ریل میں سرینگر پہنچ پاتے ہیں۔ان کا کہنا  تھا کہ دوران شب جموں سے روانگی اور اعلیٰ الصبح سرینگر پہنچنے کے دوران انتظامیہ اور معمور کئے گئے ٹیموں کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہوتی،کہ یہ غیر ریاستی مزدو ر وادی پہنچنے میں کس طرح کامیاب ہوئے۔ادھر سرینگر میں جمعرات کو بھی غیر ریاستی مزدوروں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا اور انتظامیہ کی طرف سے بین الریاستی بس سروس میں روک کے باوجود کسی بھی جگہ ان غیر ریاستی مزدوروں سے ناہی یہ پوچھ تاچھ کی گئی کہ وہ کس طرح ر سرینگر پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور ناہی ان کی سکینگ کی گئی۔ محکمہ ریلوئے کے ایک ملازم نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ10روز سے روزانہ کی بنیادوں پر سینکڑوں غیر ریاستی مزدور بانہال سے سرینگر کا سفر کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بانہال سے صبح کی پہلی گاڑی میں سب سے زیادہ لوگوں کی تعداد ان ہی غیر ریاستی مزدوروں پر مشتمل ہوتی ہے،جبکہ بعد کے اوقات میں بھی یہ لوگ ترین سے سرینگر کا سفر کرتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ  انتظامیہ کی طرف سے بغیر ٹیسٹ کئے ان مزدوروں کو وادی میں داخل ہونے کی اجازت،سے عام لوگوں کے سرئوں پر خطرات کی تلوار لٹک رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اصل میں یہ مزدور پورے بھارت میں کام کرتے ہیں،اور ان کی تشخیص وادی داخل ہونے سے قبل لازمی ہونی چاہے تھی تاہم انتظامیہ دانستہ طور پر لوگوں کو موت کے منہ میں ڈال رہی ہے۔لوگوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر یہ سلسلہ بند کیا جانا چاہے اور وادی میں داخل ہونے والے ہر ایک شخص کی با ضابطہ سکینگ اور سفری تفصیلات حاصل کلی جانی چاہے۔ معراج الدین نامی ایک شہری نے بتایا کہ جب حکام نے ٹرانسپورٹ  کی نقل و حمل پر پابندی عائد کی،تو یہ بات ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ ریل سروس کو چلنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں