کوروناوائرس سے لڑنے کیلئے صبر اور عزم کی ضرورت اتوار کو لوگ جنتا کرفیو نافذ کرکے دن بھر گھروں میں ہی رہیں:مودی

نئی دہلی /وزیر اعظم مودی نے کل شام قوم کے نام خطاب میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کرونا وائیرس سے بچنے کے لئے ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ سے دنیا بھر میں کرونا وائیرس نے تہلکہ مچادیا ہے اور بڑے پیمانے پر لوگ اس کا شکار ہونے لگے ہیں لیکن یہاں بھارت میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ لوگ اس کو سرسری لے رہے ہیں اور اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دیتے ہوے بازاروں  وغیرہ میں گھومتے ہیں ۔لیکن یہ چیز کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کی وہ قاتل کرونا وائیرس سے لڑنے کے لئے عزم اور صبر کی حد سے زیادہ ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا ان دو چیزوں کو اپنانے سے ہی ہم اس وائیرس پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ ہفتے چاہئے تاکہ ہم اس وائرس کا مقابلہ کرسکیں ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ عمررسیدہ لوگ گھروں سے کسی بھی صورت میں باہر نہ نکلیں ۔اور حد درجہ احتیاط برتیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے بار بار لوگوں سے جو مانگا انہوں نے وہ دیا اور مجھے کبھی بھی مایوس نہیں کیا ہے اسلئے میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اتوار 22مارچ کو صبح سات بجے سے رات نو بجے تک جنتا کرفیو نافذ کریں یعنی خود ہی خود پر کرفیو نافذ کریں ۔انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوے کہا کہ اس دن لوگ مکمل طور پر گھروں میں رہیں اور اس کرفیوکو کامیاب بنانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں ۔مودی نے کہا کہ پانچ بجے سب لوگ اپنے اپنے گھروں کے دروازوں ،بال کونیوں اور بالائی منزلوں پر کھڑے ہوکر تالیاں یا تھال بجاکر ان لوگوں کو خراج ادا کریں جو اپنی جانیں جوکھم میں ڈالکر کرونا وائیرس سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ البتہ لازمی سروسز سے وابستہ لوگ اس کرفیوسے مثتثنیٰ ہونگے ۔وزیراعظم نریندر مودی نے لوگوں سے کہا کہ آپ مجھے ایک ہفتہ دیجئے اور مجھے امید ہے کہ آ پ مجھے مایوس نہیں کرینگے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ وائیرس عالمی سطح پر تہلکہ مچانے لگا ہے اسلئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اسے سرسری طور پر نظر انداز نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس وائیرس کے بارے میں خاص طور پر ڈاکٹروں اور میڈیا پر بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرایض کی انجام دہی میں ذمہ داری کا ثبوت دیں ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لوگوں کو کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہونے دی جاے گی اور چاہئے مرکزی سرکار ہو یا ریاستی سرکاریں لوگوں تک ضروری اشیا ئ کی فراہمی کا ذمہ سرکاروں پر ہی ہوگی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں