سرینگر شہر میں کرفیو جیسی بندشیں - عالمی وبا کی زد میں جموں ،کشمیر اور لداخ ،متاثرہ افرادکی تعداد12

پوری وادی میں تشویش کی لہر ،معمولات زندگی ٹھپ ،بندشیں بھی عائد  بین الضلعی ٹرانسپورٹ اور ریل سروس کو بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری،دفعہ 144نافذ،لوگوں سے تعائون طلب
کے این ایس / جے کے این ایس : سرینگر/عالمی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر اور سرینگر میں پہلے مثبت کیس کی تصدیق کے ساتھ ہی پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جبکہ کئی علاقوںمیں کرونا وائرس کے خوف سے لاک ڈائون ہوگیا ۔تجارتی مرکز لالچوک سمیت پورے شہر میں دکانات ،تجارتی مراکز اور کاروباری ادا رے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا جسکے نتیجے میں سرکاری ونجی دفاتر میں ملازمین کی حاضری بہت کم رہی ۔ادھر انتظامیہ کی جانب سے بھی شہر خاص سمیت کئی علاقوں میں احتیاطی اقدامات کے تحت بندشیں بھی عائد کی گئیں ۔ انتظامیہ نے سرینگر آنے والی بین الضلعی  ٹرانسپورٹ اور ریل سروس کو بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جبکہ وادی کشمیر کے سبھی10اضلاع میں آگلے اعلان تک دفعہ144نافذ کی گئی ۔ پوری دنیا کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر اور لداخ بھی عالمی وبا ’کورونا وائرس ‘ کی زد میں آگیا ہے ۔تینوں خطوں میں تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد12ہے جبکہ وادی کشمیر میں گذشتہ روز âبدھá کو پہلے مثبت کیس کی تصدیق ہوگئی ،جس نے پوری وادی کو تشویش میں مبتلائ کیا ۔سرینگر میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیس کے بعد جمعرات کو لاک ڈائون کے مناظر چہار سو دیکھنے کو ملے جبکہ انتظامیہ نے بھی احتیاطی اقدامات کے تحت بندشیں عائد کیں اور فورسز کی بھاری نفری میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلئے تعینات کی گئی ۔وائرس کو پھیلنے سے بچانے کے اقدامات کے تحت شہر میں نرمی کیساتھ بندشیں عائد کی گئیں ۔اس سلسلے میں ضلع ترقیاتی کمشنر جوکہ ضلع مجسٹریٹ بھی ہیں ،شاہد اقبال چودھری نے دفعہ144سے متعلق ایک آرڈر جاری کیا ۔اس دوران لوگوں نے احتیاطی اقدامات کے تحت گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی ۔تجارتی مرکز لالچوک کے گھنٹہ گھر ،کوکربازار ،بڈ شاہ چوک ،مائسمہ ،ریل چوک ،پولو ویو ،گونی کھن ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ،مہاراجہ بازار سمیت پورے شہر میں سبھی بازاروں میں دکانات ،تجارتی مراکز ،کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ،البتہ نجی گاڑیاں،آٹو رکھشا اور موٹر سائیکل چلتے دیکھے گئے ۔شہر میں لاک ڈائون جیسی صورتحال کے نتیجے میں چہار سو ہو کا عالم دیکھنے کو ملا ۔سیکیورٹی فورسز نے لوگوں کی نقل وحرکت کو محدود رکھنے کےلئے شہر خاص اور سیول لائنز کو ملانے والے راستوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی تھیں ،جس دوران راستوں کو سیل کرنے کےلئے خار دار تار کا بھی استعمال کیا گیا ۔ایس ایم سی کی جانب سے جگہ جگہ کیڑے مار دوا اسپرے کرنے والی ٹیموں تعینات کی گئی تھیں ،جو گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر اسپرے کررہی تھیں ۔ ضلع مجسٹریٹ ،شاہد اقبال چودھری کا کہنا ہے کہ انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کےلئے ضروری اقدامات اٹھائے گئے ،جسکے تحت شہر میں بندشیں عائد کی گئیں ۔ان کا کہناتھا کہ ایک خاتون جو کہ بیرون ملک سے سفر کرکے آئی تھیں ،کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد عوامی نقل وحرکت کو محدود کرنے کےلئے بندشیں عائد کرنی پڑی ۔ادھرآرڈر میں کہا گیا ہے کہ عوامی نقل وحرکت اور تجاری سرگرمیوں پر عائد بندشیں اگلے اعلان تک جاری رہیں گی ۔ ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ2005کے تحت پہلے جاری کئے حکمنامہ میں مزید توسیع کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں مجرما نہ جرم کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی ۔ان کا کہناتھا کہ عوامی تعائون سے ہی کورونا وائرس پر قابو پایاجاسکتا ہے جبکہ ہم سب کو مل جل کر اس وائرس کے خلاف جنگ کر نی ہوگی ۔انہوں نے عوام کو یقینی دہانی کرائی ہے کہ غذائی اجناس اور ایشا ضروریہ کوئی قلت نہیں ہوگی ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جس بھی شخص نے کووڈ ۔19متاثر ہ مریضہ سے ملاقات کی ہے کہ وہ نذدیکی صحت سہولیاتی مرکز یا 0194245755 2,0194245754 3,9419028251فون نمبرات پر رابطہ قائم کرے ۔ ادھر بانڈی پورہ ،بارہمولہ ،پلوامہ اور کولگام اضلاع میں بھی دفعہ144نافذ کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ وسطی ضلع بڈگام میں بھی جمعرات کو کئی علاقوں میں بندشیں عا ئد رہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خیام خانیار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جوکہ سعودی عربیہ سے کشمیر عمرہ کرنے کے بعد لوٹی ہے ،کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے ۔مذکورہ خاتون 16مارچ کو کشمیر وارد ہوئی تھی ۔حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کیساتھ سفر کرنے والے سبھی مسافروں کا بھی کورونا ٹیسٹ کیا جائیگا ۔اس دوران انتظامیہ کی جانب سے ایک حکمنامہ جاری کیا گیا ہے ،جس کے تحت سرینگر آنے والی بین الضلعی ٹرانسپورٹ کو بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ریجنل ٹرانسپورٹ افسر کشمیر کی جانب سے جاری آرڈر زیر نمبرRTOK/MVD/2020/920-28کے تحت جنوبی وشمالی کشمیر اور وسطی کشمیر کے اضلاع سے شہر میں داخل ہونے والے ٹرانسپورٹ مکمل پابندی عائد کی جارہی ہے ۔حکمنامہ کے مطابق اگلے اعلان تک سرینگر میں بس سروس ،منی بس سروس،مکسی کیب سروس اور آٹو مسافر سروس بند رہے گی ۔اسی طرح سرینگرآنے والی بین الضلعی ٹرانسپورٹ سروس بھی بند رہے گی۔معلوم ہوا ہے کہ بارہمولہ ۔بانہال ریل سروس کو بھی31مارچ تک بند رکھنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ ریل حکام نے بھی اس ضمن میں با ضابط طور پر حکمنامہ جاری کیا ہے ،جسکے تحت اگلے اعلان تک وادی کشمیر میں ریل سروس مکمل طور پر بند رہے گی ۔یاد رہے کہ جموں ،کشمیر اور لداخ میں اب تک 12افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں ۔ادھربہت سے مسلم ممالک کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لئے مساجد کو عارضی طور پر بند کر رہے ہیں ، کشمیر میں بھی مذہبی رہنما ہفتے کے روز اس معاملے پر اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ کشمیر کے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے کہا کہ انہوں نے ہفتے کے روز تمام مذہبی رہنماوں کا اجلاس بلایا ہے۔ہفتہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے اس اجلاس میں جماعت اسلامی ، جمعیت اہل حدیث ، عوامی ایکشن کمیٹی ، متحدہ مجلس علما ، جمعیت ہمدانی ، اتحاد المسلمین ، متحدہ مسلم کونسل ، انجمن اتحاد اتحاد المسلمین ،مسلم پرسنل لا بورڈ ، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ اور لال بازار ، کاروان اسلامی ، انجمنِ حمایت الاسلام ، اسلامک اسٹڈی سرکل ، اور انجمن شرعی شیعان اور دیگر تنظیمیں شرکت کریں گی۔مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ ہم تین نکات پر تبادلہ خیال کریں گے جس میں مسجدوں کو صرف نماز جمعہ کے لئے محدود رکھنا ، جمعہ کے روز مختصر خطبہ ، اور مساجد میں نماز کو مکمل طور پر منسوخ کرنا شامل ہیں۔ ہمارے پاس اسلام میں یہ آپشن ہے۔ اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔مفتی اعظم نے حکومت ہند سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیر کے باہر مختلف جیلوں میں بند کشمیری قیدیوں کو رہا کرے۔کاروان اسلامی کے سرپرست مولانا غلام رسول نے کہا کہ اسلام میں ایک ایسی شق موجود ہے جس کے تحت زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی صورتحال کے وقت مساجد میں نماز عارضی طور پر منسوخ کی جاسکتی ہے۔ دریں اثنامتحدہ مجلس علما âایم ایم یوá، جس کی سربراہی میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں،نے علمائے کرام ، خطیبوں اور مساجد کے انتظامات سے اپیل کی ہے کہ وہ رہنما اصولوں پر سختی سے عمل کریں ۔جمعہ کی نماز میں عربی خطبہ انتہائی مختصر اور دعا صرف موجودہ وبا سے بچنے کیلئے کی جائے۔چین سے ظاہر ہونے والی وبا کورو نا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ،دنیا میں بھر میں9ہزار کے قریب افراد ہلاک اور دو لاکھ سے زیادہ افراد اس وبا میں مبتلائ ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں