جنوبی اور شمالی کشمیر میں مزید7 علاقے ریڈزونون میں تبدیل وادی میں ریڈ زونوں کی تعداد125سے زیاد ہ ہوگئی

جے کے این ایس : سرینگر/ 2بیکری والوں کے کوروناوائرس میں مبتلاءہوجانے کے بعدحکام نے وترگام رفیع آبادبارہمولہ کے علاقوں کوریڈزون قراردیتے ہوئے یہاں لوگوں کی نقل وحمل پرمزیدپابندیاں عائدکردیں جس کے نتیجے میںوادی میںریڈزونوں کی تعداد100کے ہندسے کو عبور کر گئی۔ جنوبی کشمیر میں کرونا وائرس مریضوں میں اضافے کے پیش نظر مزید علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے،جبکہ مزید کئی علاقوں کو بفر زون یا محدود نقل و حرکت والے علاقوں میں تبدیل کرکے انکی تار بندی،گھیری بندی اور ناکہ بندی کی ہے۔ حکام کی جانب سے یہاں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلان کروایاگیاکہ لوگ گھروں میں ہی رہیں اورسماجی دوری قائم رکھیں ۔لوگوں سے کہاگیاکہ وہ لاک ڈاؤن کے تحت عائد بندشوں کی خلاف ورزی نہ کریں ،بصورت دیگرسخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ بیکری چلانے والے2نوجوانوں کے نمونوں کی رپورٹ مثبت آنے کے بعدقصبہ وترگام میں پولیس وفورسزنے جگہ جگہ تاربندی اورناکہ بندی کردی ہے جبکہ 2نوجوانوں کے کوروناوائرس میں مبتلاءہوجانے سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے اوروہ گھروں میں سہم کررہ گئے ہیں ۔نامہ نگار میر ارشد کے اُدھرجنوبی ضلع اننت ناگ کے آرم پورہ بونہ پورہ ڈورو علاقہ کی ایک حاملہ خاتون کے نمونے کی رپورٹ مثبت آنے کے بعدحکام نے اس علاقہ کوریڈزون قرار دے۔حکام کی جانب سے یہاں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلان کروایاگیاکہ لوگ گھروں میں ہی رہیں اورسماجی دوری قائم رکھیں۔ پولیس وفورسزنے جگہ جگہ تاربندی اورناکہ بندی کردی ہے جبکہ مقامی لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے اوروہ گھروں میں سہم کررہ گئے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ جن میں ریذڈنسی کالونی،کھاندے محلہ اور پانڈن سلر اننت ناگ کو ریڈ زون قرار دیا ہے،جبکہ ان کے مزید علاقون کو بفر زون قرار دیا گیا ہے۔نمائندے کے مطابق اس دوران پلوامہ میں بھی 3علاقوں کو بفر زون قرار دیا گیا ہے،جن میں لارکی پورہ،نو بگ اور نملہ بل علاقے شامل ہین معلوم ہوا ہے کہ حکام نے بدگام پورہ،ٹکنہ،بیگ پورہ،ملنگ پورہ،دانگر پورہ،گوری پورہ،امیراآباد،شیر آباد،ڈادہ سرہ،نودل،کدلہ بل،تلہ باغ،نائک باغ باغندر اور فرستہ بل کو بفر زون علاقے قرار دیا ہے۔وادی میں اس وقت مجموعی طور پر کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد800سے زائد ہے جبکہ100سے زائد علاقوں کو ریڈ زونوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ گرمائی دارالحکومت سرینگر میں18علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا،جن میں احمد نگر،لال بازار،حول ،نوشہرہ، نشاظ،خیام،عیدگاہ،گوری پورہ،چھتہ بل،حیدر پورہ،بمنہ،جواہر نگر،نٹی پورہ ،لسجن رعناواری،نرورہ اور ٹینگہ پورہ شامل ہیں۔ وسطی ضلع گاندربل میں2 علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے،جن میں واسکورہ اور گزہامہ شامل ہیں جبکہ ضلع بڈگام میں7علاقوں کو اس زمرے میں رکھا گیا ہے،جن میں بٹہ پورہ،واتھورہ،کنہ دجن،ترجہ بل پکھر پورہ،چک مہند پورہ(چرار شریف) سویہ بگ اور پالر شامل ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ میں بھی7 علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے،جن میں آئی ٹی آئی ہندوارہ،باغ بیلا، منہ گاہ، اندرہامہ،گومال،ترہگام اور دلدار شامل ہیں۔ضلع بانڈی پورہ کے12علاقوں کو بھی اس زمرے میں رکھا گیا ہے،جن میں پرے محلہ،چندر گیر،بٹہ گنڈ،ایس کے بالا،ہاکبارہ،نائد کھے،گنڈ جہانگیر،مدھون،کنن گنڈی کیسر،نوگام بنکوٹ،گنڈی دچھنہ شامل ہیں۔بارہمولہ کے14علاقوں کو رید زون قرار دیا گیا ہے جن مین سلندہ،چکتان،چھانہ پورہ،چنڈی لورہ،ہری ونٹو،کامپورہ،گوٹلی پورہ،کٹی پورہ،قاضی پورہ،کلوارہ،کرالہ پورہ،خواجہ پورہ،سوان،اوگمنہ،سلطان ڈھکی اورآملوک کالونی شامل ہیں۔اس دوران ادھمپور اور جموں میں چار چار کے علاوہراجوری میں5اور سامبہ میں ایک علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا۔جنوبی ضلع شوپیاں کے8علاقوں سیدھو،رام نگری،سندھو شرمال،بمنی ہپورہ،ممندر،پلہ پورہ،ہیر پورہ اور کنی پورہ کے علاوہ ضلع پلوامہ کے12علاقوں گڈورہ،چندی گام،پنگلنہ،پاری گام،آبہامہ،سنگرونی اور کھی گام دربگام بالا، دربگام پائین، شیر باغ، دردپورہ اور گوری چک جبکہ چکی بدری ناتھ ، پچر اور قصبہ یا ر کے علاوہ تیل وانی چک علاقوں کے بفرزونز قرار دیا گیا ہے تاکہ کرواناوائیرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ضلع کولگام کے4علاقوں ریشی پورہ،سوپٹ،بٹہ پورہ اور چک وانگڈ شامل ہیں۔ جموں کے4علاقوں جن میں جانی پورہ،پیر پیٹھا،بھٹنڈی اور سنجیون کے علاوہ بہو قلعہ والا علاقہ شامل ہے۔ اسی طرح سے راجوری کے جن 5علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے،ان مین سرولا،دھری دھارا،منگل نار،گھمبیر مگلان اور کوٹلی شامل ہے جبکہ سامبہ کے چک رام چند کے علاوہ ادھپور کے4علاقوں جن نارسو و چونٹی،کوٹلی پین،منگوٹی،رکھ سانسو،پدانوں،چوپرا شاپ، میگنی، تھپلال، مہر ڈگر،کنالز،مارٹا،دالسر،کرمو،سوکھا تالاب،ٹکری،جرمارا اور منڈ شامل ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں