وائر س سے ہلاک ہونےوالے کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ڈومنا جموں میں لوگوں کا احتجاج، پولیس اور طبی عملہ لاش واپس ہسپتال لے گئے

یو پی آئی : سرینگر/ جموں کے ڈومنا علاقے میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہوئے شہری کی مقامی لوگوں نے آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد انتظامیہ نے لاش کو واپس گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں پہنچایا۔رپورٹ کے مطابق مقامی لوگوں نے ہیلتھ ورکروں اور پولیس عملے پر بھی پتھراو کیا تاہم پولیس نے خشت باری سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ گزشتہ روز جموں میں72سالہ شخص کی کورونا وائرس کے باعث موت واقع ہوئی تمام تر لوازمات پورے کرنے کے بعد آج یعنی منگل کے روز متوفی شخص کی آخری رسومات ادا کرنے کی خاطر جونہی پولیس اور محکمہ ہیلتھ کے اہلکار ڈمنا جموں پہنچے تو اس دوران مقامی لوگ مشتعل ہوئے اور احتجاج کرنا شروع کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق پولیس اور طبی عملہ سے وابستہ اہلکار جونہی 72سالہ شہری کی آخری رسومات ادا کرنے کی خاطر ڈومنا علاقے پہنچے تو وہاں پر لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج کرنا شروع کیا۔ مقامی لوگوں نے پولیس کو بتایا کہ اگر اس شخص کی آخری رسومات علاقے میں ادا کی جا ئے تو یہاں پر وائرس پھیلنے کا احتمال ہے ۔ احتجاج کرنے والوںنے پولیس کو بتایا کہ چونکہ متوفی ڈوڈہ کا رہنے والا ہے لہذا وہی پر اُس کی آخری رسومات ادا کی جائے جموں شہر میں ہم اس شہری کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے پولیس پر پتھراو بھی کیا تاہم پولیس ذرائع نے اس کی تردید کی ۔ لوگوں کی جانب سے احتجاج کرنے کے بعد پولیس اور ہیلتھ محکمہ سے وابستہ اہلکاروں نے لاش کو واپس جموں میڈیکل کالج پہنچایا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق اب متوفی شخص کی آخری رسومات اُس کے آبائی گاؤں ڈوڈہ میں ہی انجام دی جائے گی۔ یہاں یہ بات توجہ طلب ہے کہ 13مئی کے روزبھی دگنا جموں میں کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہوئے شخص کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جس کے بعد اُس شخص کی لاش کو واپس اسپتال پہنچایا گیا اور 14مئی کے روز شاستری نگر میں اُس کی آخری رسومات ادا کی گئی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں