لداخ کی صورتحال سے جموںوکشمیر پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا کشمیری نوجوانوںکو عسکریت سے دور رکھنے کی ذمہ داری والدین پر بھی :کورکمانڈر

اے پی آئی : سرینگر/مقامی نوجوانوں کو عسکریت سے دور رکھنے کے لئے بھرپوراقدامات اٹھانے کاعندیہ دیتے ہوئے 15کارپس کے کور کمانڈرنے کہاکہ رواں برس کے چھ ماہ کے دوران 2019کے مقابلے میں دراندازی میں کمی آئی ہے تاہم پاکستان کی جانب سے کنٹرول لائن رفوج کی سرگرمیوں میںاضا فہ ہوا ہے اور بھارت کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے لداخ کے معاملے کا جموں وکشمیر پر کوئی اثر پڑنے والانہیں ہے صورتحال پوری طرح سے قابومیں ہے۔ 15 ویں کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل بی ایس راجو نے ایک انگیریزی روزنامے کوانٹرویو دیتے ہوئے لداخ کی صورتحال پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ 14کارپس لداخ میں اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہی ہے اس صورتحال پرپوری طرح سے قابو میں ہے ۔کورکمانڈر نے کہا کہ خدشات ہیں کہ لداخ میں چینی لبریشن آرمی کے علاوہ اوربھی غیرملکی افراد کی نقل وحرکت ہوسکتی ہے اورلداخ کے لئے راستہ جموں کشمیرسے ہی ہوکرجاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ صورتحال پوری طرح سے قابومیں ہے تا ہم فوج کو یہ صلاحیت ہے کہ وہ چینی لبریشن آرمی کابھرپورجواب دے سکتی ہے اور انہیں علاقے سے بھگابھی سکتی ہے۔15ویںکورکمانڈر نے کہاکہ پاکستانی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پرسرگرمیوں میں اضافہ ہواہے تا ہم فوج کسی بھی چلینج کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے پہلے ہی عندیہ دیاکہ بھارت ان پرحملہ آورہوگااگرچہ ان پرصداقت نہیں تاہم یہ شک وشبہ ضروری پیدا ہوتاہے کہ پاکستان حدمتارکہ اوربین الاقوامی کنٹرول لائن پرگڑ بڑ بھی کرسکتاہے اگرچہ پاکستانی فوج کی جانب سے عسکریت پسندوں کودھکیلنے ے لئے مسلسل جنگبندی معاہدے کی خلاف ورزی بھی کی جارہی ہے ،کور کمانڈرنے کہاکہ جنگبندی معاہدے کیخلاف ورزی کے باوجود کنٹرول لائن پر صورتحال خاموش ہے تاہم فوج پوری طرح سے متحرک ہے ۔انہوںنے کہا کہ سال 2019کے مقابلے میں رواں برس کے چھ ماہ کے دوران عسکریت پسندوں کی دراندازی میںکافی کمی واقع ہوئی ہے اور کئی کارروائیوں کے دوران دراندازی کرنے والے عسکریت پسندوں کوحدمتارکہ پرہی ڈھیر کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ لداخ کی صورتحال کاجموں وکشمیرپرکوئی اثرپڑنے والانہیں ہے پوری طرح سے حالات پرکڑی نظررکھے ہوئے ہے اورہم امیدکرتے ہیں کہ سب کچھ بہتر طریقے سے ہی اپنے اختتام کوپہنچے گا۔کورکمانڈر نے مقامی نوجوانوں کے عسکریت میںداخل ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ فوج اپنی جانب سے بھرپورکوشش کررہی ہے کہ مقامی نوجوان پرپامن طریقے سے زندگی گزاریں تاہم یہ ان کے والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ انہیں عسکریت سے دوررکھے ہم نہیں چاہتے ہیں کہ مقامی نوجوان بندوق اٹھاکراپنی جانیں ضائع کریں توسہ میدان میں بغیرپھٹے شلوں کوناکارہ بنانے کے سلسلے میں سوال کاجواب دیتے ہوئے کور کمانڈر نے کہاکہ ابتک 500سے لیکرایک ہزا رکے قریب زیرزمین شلوں کوناکارہ بنایاگیاہے اور مستقل میں بھی توسہ میدان کاجائزہ لیاجائےگا اگرمزیدکوئی شل موجود ہوگاتواسے بھی ناکارہ بنایاجائےگا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں